سے پوچھا۔قدرت نے کہا:تم مجھے ملامت نہ کرو ،میری پکڑ نہ کرو،کئی ملامت کرنے والے قابل ملامت ہوتے ہیں،کئی قابل ملامت ایسے ہیں جن کا کوئی قُصور نہیں،میرا معاملہ تم پر ڈھکا چُھپا نہیں،تم نے کیوں گمان کرلیا کہ اس پر سوار ہوکر میں نے ظلم کیا ہے حالانکہ میں اس کی حرکت سے پہلےبھی اس پر سوار تھی، نہ میں نے اسے حرکت دی ،نہ میں نے اسے تابع کیا،میں تو ساکن اور سوئی ہوئی تھی گمان والے مجھے مردہ یا معدوم خیال کرتےتھےکیونکہ میں نہ تو خود حرکت کرتی،نہ دوسرے کو حرکت دیتی یہاں تک کہ ایک مُوَکِّل آیاجس نے مجھے بے چین کردیااور طاقت کے بل بوتےپر وہ کام کروایا جو تم نے دیکھا، مجھ میں موافقت کی طاقت تھی،مُخالَفَت کی نہیں،اس مُوَکِّل کا نام ’’ارادہ‘‘ہے۔میں فقط اس کا نام اوراس کا جھپٹنا جانتی ہوں کہ اچانک مجھےگہری نیند سے بیدار کیا،مجھ سےزبردستی وہ کام کروایاکہ اگر میری رائے ہوتی تو میں اس سے چھٹکارا پاتی۔اس نے کہا: تو نے سچ کہا ۔
پھر اس نے ’’ارادہ‘‘سے سوال کیا :کیا سبب ہے جس نے تجھے دلیر بنایا ہے کہ تونے پرسکون قدرت کومتحرک کیا،زبردستی کام کروایا،جس سےوہ بچ سکی نہ چھٹکارا پاسکی؟ارادہ نے کہا:تم مجھ پر جلدی نہ کرو ،تم مجھے ملامت کرتے ہوشاید میں معذور ہو ں کیونکہ میں خود نہیں اٹھا ،مجھے اٹھا یا گیا، میں خود تیار نہیں ہوا، مجھےزبردست اور سخت حکم کےذریعہ بھیجا گیا ،میں آنے سے قبل خاموش تھالیکن دل کے دربار سےعلم کاقاصد ،عقل کی زبان لے کرقدرت کو اٹھانے کا پروانہ لایا،میں نے اسے مجبوراً اٹھایا ہے، میں تو مسکین ہوں، عقل اور علم کے غَلَبَہ کی وجہ سے تابعدار ہوں،میں نہیں جانتا کون ساجرم مجھ پر نافذ ہوگا؟ مجھے کس کی تابِعْداری کرنی ہے؟کس کی اطاعت لازم ہوگی؟لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ جب تک غلبہ والا نہیں آیا تھا، میں پُرسکون تھا،میں راحت میں تھا ،اب حکم کرنے والاعادل ہو یا ظالم میں اس کے سامنے کھڑا ہوں، اس کی اطاعت مجھ پرضروری ہوگئی بلکہ جب اس کا یقینی حکم آتا ہےمجھ میں مُخالَفَت کی تاب نہیں ہوتی، میری جان کی قسم! جب تک وہ خود حکم دینے میں شک وشبہ میں رہتا ہےمیں ساکن رہتا ہوں لیکن اس کےحکم کی جانب دھیان اور انتظار رہتاہےاور جب اس کا یقینی حکم آجائےطبعی طور پر اورزبردست غلبہ کی وجہ سے میں پریشان ہوجاتا ہوں ،قدرت کو اٹھاتاہوں کہ اس کے حکم کے مطابق عمل کرےلہٰذا تم علم سے پوچھو،مجھ پر