ہے اور تم دیکھتے ہو کہ بوقت لڑائی جس شخص پر غصہ غالب ہوتا ہے اسے بہت سارے زخم آتے ہیں مگر اس وقت اسے زخموں کا احساس تک نہیں ہوتا کیونکہ غصہ ایک قلبی آگ کا نام ہے۔ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اَلْغَضَبُ قِطْعَةٌ مِّنَ النَّارِ یعنی غصہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے۔“(1)
دل کا جلنا زیادہ سخت ہے:
جسم کے جلنے سے دل کا جلنا زیادہ سخت ہوتا ہے اور زیادہ سختی اپنے سے کمزور احساس کو باطل کردیتی ہے جیساکہ تم دیکھتے ہو۔ پھر آگ اور تلوار کی ہلاکت یہ ہے کہ وہ جسم کے ملے ہوئے ٹکڑوں کو بقدرِاِمکان الگ الگ کردیتی ہیں اور جو چیزدل اوراس کے محبوب کے درمیان جدائی ڈالتی ہے وہ زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے بشرطیکہ آدمی صاحِبِ بصیرت اور صاحِبِ دل ہو کیونکہ دل اور اس کے محبوب کا تعلق جسمانی رابِطہ سے بڑھ کر سخت ہوتا ہے اور یہ بات بعید نہیں ہے کہ جو دل سے محروم ہے وہ اس تکلیف کی شدت کا ادراک نہ کرسکے اور جسمانی تکلیف کے مقابلے میں اسے کم سمجھے۔ چنانچہ
دومثالیں:
اگر بچے کو دو باتوں میں اختیار دیا جائے کہ ”بادشاہت چھوڑدو یا گیند بلا چھوڑ دو۔“ تو اسے بادشاہت سے محرومی کا احساس ہوگا نہ وہ اسے تکلیف سمجھے گا بلکہ کہے گا ”مجھے گیند بلے کے ساتھ میدان میں دوڑنا ہزار شاہی تختوں پر بیٹھنے سے زیادہ پسند ہے۔“ یہی نہیں بلکہ جس آدمی پر پیٹ کی خواہش کا غلبہ ہو اگر اسے اختیار دیا جائے کہ ”حلوہ وہَرِیسہ کھالو یا میدانِ عمل میں ایسی دادِ شجاعت دو جس سے دشمن مغلوب اور دوست خوش ہوجائیں۔“ تو وہ حلوہ وہریسہ کھانے کو ترجیح دے گا۔
پہلی مثال میں بچے کو بادشاہی سے محرومی کا احساس نہ ہونا اس لئے ہے کہ اس کے دل میں وہ معنی نہیں پایا جاتا جس کی موجودگی سے جاہ ومرتبہ محبوب ومرغوب ہوتا ہے جبکہ دوسری مثال میں پیٹ کی خواہش والے کے دل میں وہ معنیٰ پایا جاتا ہے جس کی موجودگی سے کھانا لذیذ معلوم ہوتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… سنن الترمذی ، کتاب الفتن، باب مااخبرالنبی اصحابہ … الخ،۴/ ۸۲،حدیث:۲۱۹۸،نحوہ۔