Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
749 - 882
 الْبَحْرُ (پ۱۶،الکھف:۱۰۹)
کے لیے سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہوجائے گا۔
	پھر یہ سرگوشی سلطنت و بادشاہت کےرازوں کے بارے میں ہوتی ہے اور راز کو ظاہر کرنا برا ہے۔ شیطانی مکر و فریب سے آزادسینے رازوں کاقبرستان ہوتےہیں۔کیا تم نے کبھی کسی بادشاہ کے رازدار کودیکھا ہے کہ اس کےسامنے رازدارانہ گفتگو کی جائے تو وہ لوگوں کے سامنے بادشاہ کےرازبیان کردے۔اگر ہمارے لئے راز ظاہر کرنا جائز ہوتاتو نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یوں  ارشاد نہ فرماتے :”جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے۔“(1)بلکہ صحابہ کرام کےسامنے اسے بیان فرماتے کہ وہ روئیں اور نہ ہنسیں نیز تقدیر کے راز کو ظاہر کرنے سے منع فرماتے(2) اور یوں بھی ارشاد نہ فرماتے:”جب تاروں (کی تاثیر) کا ذکر ہوتو اس سے خاموشی اختیار کرو،جب تقدیر کےمتعلق گفتگو ہو توزبان کو اس سے روکو، جب میرے صحابہ کا ذکر ہو تو (انہیں برابھلا کہنے سے)زبان کو روکو۔(3) البتہ حضرت سیِّدُناحذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بعض رازوں پرخصوصیت کے ساتھ مطلع فرمایاتھا۔(4)
	ان ذرّات کی اہل کشف کے ساتھ سرگوشی کی وضاحت میں دو طرح کی رکاوٹ ہے:ایک یہ کہ راز کو ظاہر کرنا مُحال ہےدوسرا یہ کہ ان کلما ت کو شمارنہیں کیا جاسکتالیکن جو مثال ہم نے پیش کی ہے وہ قلم کی حرکت سےبیان ہوسکتی ہے۔لہٰذا ہم ان کی سرگوشی کو  بقدر ضرورت بیان کریں گےجس سے توکل کی بنیادی کیفیت بآسانی سمجھ میں آجائے۔ ان کلمات میں اگرچہ حروف وآوازنہیں لیکن سمجھانے کی غرض سے ہم ان کلمات کو حروف اور آواز کی جانب لوٹائیں گے۔
حکایت:عالَم ظاہر سے عالَم بالا کا سَفَر
	کسی نے نور ِالٰہی کے چراغ سےایک کاغذ کو دیکھا کہ اس کا چہرہ سیاہی سے کالا ہوچکاہے۔اس نے پوچھا: تیرے چہر ے کو کیا ہوا یہ تو سفید روشن تھا اور اب اس پر سیاہی ظاہر ہے،کیوں تو  نےاپنا  چہرہ سیاہ کردیا آخر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب الکسوف، باب الصدقة فی الکسوف، ۱/ ۳۵۷، حدیث:۱۰۴۴
2…الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی، ۸/ ۳۹۷، الرقم۲۰۱۸الھیثم بن جماز بصری
3…مساویٔ الاخلاق للخرائطی، باب فی ما جاء فی علم النجوم…الخ، ص۳۱۰، حدیث:۷۷۵
4…مسلم، کتاب صفات المنافقین واحکامھم، ص۱۴۹۶، حدیث:۲۷۷۹