لوگوں کی غلطی چیونٹی کی غلطی کی طرح ہےکہ اگر کسی کاغذ پر چلےتودیکھے گی کہ قلم کی نوک کاغذ کو سیاہ کر رہی ہے چونکہ اس کی نظر کا دائرہ ہاتھ اور انگلیوں تک نہیں پہنچتا چہ جائیکہ لکھنے والے تک پہنچے لہٰذااسے غلط فہمی ہوتی ہے جس کے باعث وہ یہ گمان کرتی ہے کہ قلم ہی سفید کاغذ کو سیاہ کررہا ہے اور یہ معاملہ بصارت کی کمی کی وجہ سے ہے کیونکہ اس کی آنکھ چھوٹی ہے لہٰذا وہ قلم کی نوک سے آگے نہ دیکھ سکی۔اسی طرح جس شخص کا سینہ نور ِالٰہی سے اسلام کے لئے نہ کھل سکا تو اس کی بصیرت زمین وآسمان کے مالک کی طرف دیکھنے سے قاصر رہی اور تمام چیزوں پر اس کے غلبے کو نہ دیکھ پائی گویا وہ کاتب کو ہی سب کچھ سمجھنے لگا اوریہ بات محض جَہالت ہے۔ حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی قدرتِ کامِلہ سےاہْلِ کَشْف کے لئےزمین وآسمان کے ہرذرّہ کو قوت گویائی عطا فرماتا ہے جس کے ذریعہ ہر چیز گفتگو کرتی ہےیہاں تک کہ اہْلِ کشف ذرّوں سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تسبیح و تقدیس اورا ن کے عاجز ہونے کی گواہی سنتے ہیں۔یہ گفتگو فصیح زبان میں ہوتی ہے کہ جس میں حروف ہوتے ہیں نہ ہی آوازیں نیز جن لوگوں میں سننے کی صلاحیت نہیں ہوتی وہ اسے نہیں سُن پاتے۔یہاں سننے سے مراد ظاہری سننا نہیں ہے کہ جس میں صرف آواز سنی جاتی ہےکیونکہ گدھا بھی(ظاہری آواز) سنتا ہےاور جس کام میں جانور شریک ہوں وہ کوئی اہم کام نہیں ہوتا ،سننے سے ہماری مرادوہ کلام ہے جس میں حروف وآوازیں نہ ہوں اور نہ ہی وہ کلام عَرَبی یا عجمی ہو۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
اگر آپ ایسا کہتے ہیں تو یہ ایک عجیب بات ہے جسے عقل قبول نہیں کرتی، آپ ان کے بولنے کی کیفیت بیان کیجئے کہ یہ کس طرح اور کس چیز کے ساتھ بولتے ہیں،کیسے تسبیح و تقدیس کرتے ہیں اوراپنے عاجز ہونے کی گواہی کیسے دیتے ہیں؟
جواب :جان لیجئے !زمین وآسمان کا ہر ذرّہ اہل کشف کے ساتھ سر گوشی کرتا ہےجسے شمار کیا جاسکتا ہے نہ اس کی انتہا معلوم کی جاسکتی ہےکیونکہ یہ سرگوشی ایسے کلمات پر مشتمل ہوتی ہےجو کَلِماتِ الٰہی کےدریا سے مُسْتَفاد ہوتے ہیں اور اس دریا کی کوئی انتہا نہیں۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلۡ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیۡ لَنَفِدَ
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرمادو اگر سمندر میرے رب کی باتوں