Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
747 - 882
 پاتا۔“ توایسا شخص  مُعافی نامہ میں نجات دہِندہ قلم کو سمجھنے والا ہے،قلم کو حرکت دینےوالے بادشاہ کو نہیں اور یہ بات انتہائی درجہ کی  جہالت ہےجبکہ جوشخص یہ بات جانتاہےکہ قلم خود نہیں چلتا بلکہ کاتب یعنی لکھنے والےکے ہاتھ کے تابع  ہے،وہ کا تب کاشکریہ ادا کرتا ہےبلکہ کبھی تو آزادی کی خوشی ا سے اس قدر بےخود کردیتی ہےکہ بادشاہ اور کاتب دونو  ں کا شکریہ ادا کرتا ہےاور قلم ،دوات و سیاہی کی جانب ذرا بھی توجّہ نہیں کرتا۔
	زمین،سورج ، چاند ستارے ،بارش،بادل ہر جاندار و بے جان چیز دست قدرت کے تابع ہےجس طرح کاتب کے ہاتھ میں قلم۔یہ مثال تمہارے لئے ہے کیونکہ تم یہ سمجھتے ہو کہ بادشاہ ہی معافی نامہ کو لکھنے والا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی اسے لکھنے والا ہے۔فرمان باری تعالیٰ ہے:
وَمَا رَمَیۡتَ اِذْ رَمَیۡتَ وَلٰکِنَّ اللہَ رَمٰی ۚ (پ۹،الانفال:۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اے محبوب وہ خاک جو تم نے پھینکی تم نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی۔
	لہٰذا جب تم پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ زمین وآسمان کی ہر چیز اس طرح مسخر و تابع ہےتو شیطان تم سےنامراد لوٹ جائے گا اورتمہاری توحید میں شرک کی آمیزش سے مایوس ہوجائے گاپھر و ہ تمہارے پاس دوسرے مہلک راستے سے آئے گا جو کہ اختیاری افعال میں انسان کے بااختیارہونے کی جانب توجُّہ دلانا ہے۔ شیطان کہتاہے:”ہر کام اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی جانب سے کس طرح ہوتا ہےحالانکہ یہی انسان ہے جو تمہیں تمہارا رزق اپنے اختیار سےدیتا ہے،اگر چاہے تو دے،اگر چاہے تو روک دے اور یہی انسان ہے جو تمہارا سر قلم کرتا  ہے اور اس بات پر قادر ہےکہ  چاہےتوسر قلم کردے،چاہے معاف کرے۔تم انسان سے خوف اور امید کیونکر نہیں رکھتے حالانکہ  تمہارا معاملہ انسان کے ہاتھ میں ہے اور تم اس بات کو جانتے بھی ہواور تمہیں اس میں کوئی شک نہیں۔“شیطان یہ بھی کہتا ہے :”اگر تم قلم کوتابع ہونےکی وجہ سے  اہمیت نہیں دیتےتو کاتب کو کیونکر  اہمیت دیتےہو کہ وہ بھی توکسی  کا تابع ہے؟ “ایسے وسوسے کی صورت میں اکثر کے قدم پھسل جاتے ہیں۔
کاتب بھی تابع ہے:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کےمخلص بندے جن پر شیطان ملعون کا زور نہیں چلتا وہ کاتب کو نورِ بصیرت سےاس طرح تابع و مجبور دیکھتےہیں جیسے تمام کمزور لوگ قلم کو تابع دیکھتے ہیں اور  وہ یہ جانتےہیں کہ اس معاملہ میں کمزور