تمہارا اعتماد اور بھروسا سب اسی ایک ذات کی جانب ہوجائےگا کہ وہی اکیلافاعل حقیقی ہے باقی سب اس کے تابع ہیں کہ اس کی زمین وآسمان کی عظیم الشان سلطنت کےایک ذرّہ کو بغیر اس کی اجازت کے حرکت نہیں دے سکتے۔ جب تم پر عِلْمِ مُکاشَفہ کے دروازے کھلیں گےتو یہ بات تم پر خوب روشن ہوجائےگی اور آنکھ کے مشاہدہ سے زیادہ کامل ہوگی۔
تیسرے درجے پرشیطانی وساوس:
شیطان اس مقام پر رکاوٹ بنتے ہوئے دو اعتبار سے تمہارے دل میں شرک کاوسوسہ پیدا کرے گا: ایک جاندار چیزوں کی طرف متوجہ کرکے اور دوسرا بے جان چیزوں کی جانب توجہ کرواکر۔جہاں تک بےجان چیزوں کی جانب متو جّہ کروانے کی بات ہے تو اس کی مثال یہ ہے کہ (شیطان کہےگا) سبزہ اور نباتات کے نکلنے اور بڑھنے کے معاملہ میں تم بارش پر بھروسا کرتےہو،بارش برسنے میں بادلوں پراوربادلوں کے اکٹھا ہونے میں ٹھنڈک پرنیزسفینہ کےچلنے اورٹھہرنے کے معاملہ میں ہواپراعتماد کرتے ہویوں تم توحید میں غیر کو شریک کرتے ہو اور اشیاء کے حقائق سے ناواقف رہتے ہو۔جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: فَاِذَا رَکِبُوۡا فِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللہَ مُخْلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۚ فَلَمَّا نَجّٰىہُمْ اِلَی الْبَرِّ اِذَا ہُمْ یُشْرِکُوۡنَ ﴿ۙ۶۵﴾ (پ۲۱،العنکبوت:۶۵)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں اللہ کو پکارتے ہیں ایک اسی پر عقیدہ لاکر پھر جب وہ انھیں خشکی کی طرف بچالاتا ہے جبھی شرک کرنے لگتے ہیں۔
یعنی وہ یہ کہتے ہیں اگر ہو امیں ٹھہراؤ نہ آتا تو ہم نجات نہ پاتے۔
وساوس کا علاج:
جس پر عالَم کا معاملہ حقیقۃ ً واضح ہوجائے وہ جان لیتا ہےکہ ہوا خود حرکت نہیں کرتی جب تک کوئی مُحَرِّک (حرکت دینے والا) نہ ہو۔ایسے ہی اس مُحَرِّک کا بھی کوئی اورمُحَرِّک ہوتا ہےیہاں تک کہ سب سے پہلا مُحَرِّک جس کا کوئی مُحَرِّک نہیں وہ ذاتِ باری تعالیٰ ہے جو خودحرکت سے پاک ہے لہٰذابندےکا مذکورہ معاملہ میں ہوا کی جانب متوجّہ ہونا اس شخص کی طرح ہےجس کی گردن اڑانے کے لئےاسے گرفتا ر کیا گیا ہومگر بادشاہ اسے معافی نامہ لکھ دے۔ تو اگر وہ شخص کاغذ،قلم و دوات کی جانب متوجّہ ہوکرکہے :”اگر قلم نہ ہوتا تو میں چھٹکارا نہ