خَوَّاص عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاقکو پے در پے سفر کرتے دیکھاتو اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا:”آپ کیا کرتے ہیں؟“ فرمایا:”میں سفر میں رہتا ہوں تاکہ توکل کے معاملہ میں اپنی حالت درست کرسکوں۔“ حضرت سیِّدُنا حسین بن منصور حلاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”آپ نے اپنی عمر اپنے باطن کو آباد کرنے میں گزار دی، فنافی التوحید(کا درجہ)کہاں ہے؟“
حضرت سیِّدُنا ابراہیم خوَّاص عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاق توحید کے تیسرے درجہ کی درستی میں مصروف تھے جبکہ حضرت سیِّدُنا حسین بن منصور حلاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان سے چوتھے درجہ کا مطالبہ کیا،یہ مُوَحِّدین کےدرجات کی مختصر وضاحت ہے۔
توکل کس درجہ سے حاصل ہوتا ہے؟
اگر آپ کہیں کہ اتنی وضاحت تو ضروری ہےجس سے توکل کی بنیادی کیفیت سمجھ میں آسکے۔ تو میں کہتا ہوں کہ چوتھے درجہ میں غور و فکر کرنے کی اجازت نہیں اور نہ توکل کی بنیاد اس پر ہے بلکہ توکل توحید کے تیسرے درجہ سے حاصل ہوتا ہے۔پہلا درجہ منافقت ہےجو کہ صاف ظاہر ہے جبکہ دوسرا درجہ اعتقاد ہے جو کہ عام مسلمانوں میں پایا جاتا ہے۔ اس اعتقاد کو گفتگو کے ذریعہ پختہ کرنے اور گمراہوں کی جعل سازیوں سے اسے بچانے کا طریقہ کتب عقائد میں موجود ہے۔ ہم نےاپنی کتاب ”اَلْاِقْتِصَاد فِی الْاِعْتِقَاد“میں بقدر ضرورت اہم باتیں (عقائد کے متعلق)ذکر کی ہیں۔تیسرے درجےہی پر توحید کی بنیاد ہےکیونکہ صرف توحید کا عقیدہ رکھنے سے توکل پیدا نہیں ہوتا لہٰذا ہم اس درجہ کی صرف اتنی وضاحت کریں گے جس کا توکل کے ساتھ تعلق ہے کہ مزید تفصیل کی اس کتاب میں گنجائش نہیں۔
خلاصَۂ کلام:
خلاصہ یہ ہے کہ تم پر واضح ہوجائے کہ فاعل حقیقی صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات ہے،تمام مخلوق، رزق، موت و زندگی ، تنگدستی و مالداری بلکہ ہر وہ شے جس کا کوئی نام ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اکیلا ہی اسے پیدا فرمانے والا ہے اور جب تم پر یہ بات واضح ہوجائے گی تو تم غیر کی جانب نہیں دیکھو گے بلکہ تمہارا خوف ،تمہاری امید،