Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
744 - 882
	جواب: یہ علم مکاشفہ کی غایت ہے، اس کے اَسرار و رُمُوز کسی کتاب میں بیان کرنا درست نہیں، عارفین اس کے متعلق فرماتے ہیں:”ربوبیت کے راز ظاہر کرنا کفر ہے۔“(1) پھر یہ کہ اس کا تعلق علم معاملہ سے نہیں ہے لیکن اسے ناممکن سمجھنا درست نہیں کیونکہ چیز کبھی ایک اندازواعتبار سےکثیرنظر آتی ہے اور دوسرے انداز و اعتبار سےایک نظر آتی ہےجیساکہ جب انسان کی روح ،جسم ،ہاتھ پیر ،نَسوں اور آنتوں کی جانب نظر کی جائے تو انسان کے اجزاکثیرنظر آتے ہیں اور جب اسی انسان کو  دوسرے اعتبار اور انداز سےدیکھا جائے تو وہ ایک فرد نظر آتا ہےکیونکہ انسانیت کی طرف نسبت کرنے کے اعتبار سے انسان ایک فرد ہےاو ر  کتنے لوگ ایسے ہیں جو انسان کو دیکھتے ہیں لیکن ان کےدل میں  روح، جسم،ہاتھ پیر، نسوں اور آنتوں کا خیال نہیں آتا لہٰذا دونوں سالکین میں فرق یہ ہے کہ چوتھے درجے والا سالک ایک ذات  میں مُسْتَغْرَق ہوتا ہے جس میں تفریق نہیں جبکہ تیسرے درجے والا سالک جمع کو دیکھتا ہےاور الگ الگ کثرت کی جانب متوجّہ ہوتا ہے۔اسی طرح وجود چاہے خالق کا ہویامخلوق کا،اعتبارات اور مُشاہَدات کے اعتبار سے مختلف ہےایک اعتبار سے یکتا اور دوسرے اعتبار سےکثیر ہوتا ہے اور بعض میں بعض سے زیادہ کثرت ہوتی ہے۔اس کی مثال انسان ہے اگرچہ یہ مثال  مُطابَقَت نہیں رکھتی لیکن اس سے  مُشاہَدے کے اعتبار سےکثیر چیزوں کے ایک نظر آنے پر آگاہی ضرور ہوجاتی ہے۔
	مذکورہ  گفتگو سے یہ ظاہر ہوگیا کہ جس درجہ تک تم نہ پہنچ سکو اس سے انکار نہ کرناہی ایمان و تصدیق ہے لہٰذا اس اعتبار سے تمہیں کچھ نہ کچھ حصہ مل جائے گا اگرچہ تم مذکورہ درجہ تک پہنچ نہ سکو۔جس طرح تم نبوت پر ایمان رکھتے ہو اگرچہ نبی نہیں ہو لیکن تمہاری ایمانی طاقت کے مطابق فیضانِ نبوت سے کچھ حصہ ضرور ملتا ہے۔ اس مشاہدہ میں ایک ہی ذات برحق  کاجلوہ نظر آتا ہے،یہ جلوہ کبھی کبھار رہتا ہے اور اکثر مرتبہ بجلی کی چمک کی  مانند ہوتا ہے۔حضرت سیِّدُنا حسین بن منصور حَلّاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےجب حضرت سیِّدُنا ابراہیم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… علامہ سیِّد محمد مرتضٰی زَبیدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاتحاف السادۃ المتقین، جلد12،صفحہ20 پر فرماتے ہیں:جب کوئی شخص ان  باتوں کو سنےگا تو لا علمی کی وجہ سے ان کا انکار کربیٹھے گا۔ روایت میں ہے:جو بات لوگوں کی عقل کے مطابق نہ ہو اسے بیان مت کرو،کیا تم یہ چاہتے ہوکہ لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول کو جھٹلادیں۔(صحیح البخاری، کتاب العلم، باب من خص بالعلم قوما…الخ، ۱/ ۶۷ ،حدیث:۱۲۷)