Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
743 - 882
 بدن اور دل ہے۔منافق کی توحید غازی کی تلوار سے اس کے بدن کو بچا لیتی ہےکیونکہ تلوار صرف ظاہری جسم تک پہنچتی ہے اور غازی کو دل چیر کر دیکھنے کا حکم نہیں ہےاورمرتےہی یہ توحید اس سے الگ ہوجاتی ہےکہ بعد موت اس کا کوئی فائدہ نہیں اور جس طرح اوپری چھلکےکےمقابلہ میں نچلا چھلکا زیادہ فائدہ مند ہے کہ یہ مغز کی حفاظت کرتا ہےاور ذخیرہ کےوقت مغز کوخراب ہونےسے بچاتا ہے اور جب اسے الگ کردیا جائےتو بطور ایندھن اس سے نفع حاصل کرنا ممکن ہوتا ہےلیکن  مغز کے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت نہیں اسی طرح بغیر کَشْف کےصرف اعتقاد رکھنااگرچہ فقط زبانی اقرار کے مقابلہ میں نفع بخش ہے لیکن کشف اور مُشاہَدۂ حق کے مقابلے میں ناقص ہےکہ یہ مشاہدہ اور کشف شرحِ صدر کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے کہ جس میں نورِحق کی تجلی چمکتی ہےاوردرج ذیل آیات مبارکہ میں شرحِ صدر سے مراد یہی ہے:
(1)…  فَمَنۡ یُّرِدِ اللہُ اَنۡ یَّہۡدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلۡاِسْلَامِ ۚ  (پ۸،الانعام:۱۲۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جسے اللہ راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔
(2)… اَفَمَنۡ شَرَحَ اللہُ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ فَہُوَ عَلٰی نُوۡرٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ(پ۲۳،الزمر:۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے۔
	جس طرح مغز فی نفسہٖ چھلکے کے مقابلہ میں بہتر اورمقصود ہوتا ہےلیکن خالص تیل کے مقابلہ میں مغز میں ملاوٹ والے اجزاءموجود ہوتے ہیں اسی طرح فاعل کو ایک جاننا سالِکین کے لئے ایک بلند درجہ ہے لیکن ذات واحد کا مشاہدہ  کرنے والے(چوتھے درجے والے )سالِک  کے مقابلہ میں غیر کو دیکھنے اور کثرت کی جانب توجّہ کرنے والے(تیسرے درجے والے)سالک میں ملاوٹ ضرور پائی جاتی ہے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
	یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہےکہ سالک ایک ہی ذات کا مشاہدہ کرے جبکہ وہ زمین وآسمان اور تمام اَجسام کو دیکھتا ہےاور یہ سب بہت زیادہ ہیں۔ کثیر چیزیں کس طرح ایک نظر آسکتی  ہیں؟