Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
742 - 882
 اعتقاد کو نہیں جھٹلاتا تو اس کے دل پر ایک گِرہ لگ جاتی ہےجوکھل سکتی ہے نہ ہی ڈھیلی ہوتی ہےلہٰذا ایسا شخص اگر اسی عقیدہ پر مرجائے اور گناہوں کے سبب اس کا عقیدہ کمزور نہ ہوتو آخرت کے عذاب سے بچ جاتا ہے۔ کئی دھوکےاس قسم کے ہیں جن کے ذریعہ اس گرہ کو کھولنے یا کمزور کرنےکی کوشش کی جاتی ہےانہیں بدعت کہا جاتا ہےجبکہ کئی ذرائع ایسے ہیں جن کے ذریعہ ان دھوکوں کو دور کیا جاتا ہےاور دل پراس گرہ کو مزید مضبوط کیاجاتاہےاسےعِلْمِ کلام کہتے ہیں اور اس کے جاننے والے کو مُتکَلم کہتے ہیں۔ یہ بدعتی سے ٹکراتا ہےاس کا مقصد عوام کےدلوں پر موجود گرہ کو کھولنے والےبدعتی کو دور بھگانا ہے۔کبھی متکلم کو مُوَحِّد(توحید کا اقرار کرنے والا) بھی کہا جاتا ہےکیونکہ یہ اپنےکلام کے ذریعہ کلمہ توحیدکے مفہوم کی حفاظت کرتا ہےتاکہ عوام کے دلوں سے یہ گرہ  کھل نہ سکے۔
	تیسرے درجے والا جوکہ ایک فاعِلِ حقیقی ہی کا مُشاہَدہ کرتا ہےجب اس پرحق مکمل واضح ہوجاتا ہے تو اسے ہر چیز کاتعلق ایک ہی ذات کےساتھ نظر آتاہے ،اشیاء کی مکمل حقیقت اس پر ظاہر ہوجاتی ہے نیزوہ  اس بات کا پابندنہیں ہوتا کہ لفظ حقیقت کےمفہوم کا اعتقاد رکھےکیونکہ یہ مرتبہ عوام اور متکلمین کا ہے اور اعتقاد کے معاملہ میں متکلم عوام سے الگ نہیں ہوتا۔ البتہ متکلم اس گرہ کو کھولنے والےبدعتی کی چالبازیوں کو دور کرنے والے کلام پر قادر ہوتا ہے۔چوتھے درجے والے شخص کے مشاہدہ میں ایک ذات کےعلاوہ کوئی اور نہیں ہوتا، وہ تمام چیزوں کوکثرت کے بجائےایک ہونے کے اعتبار سے دیکھتا ہے۔یہ توحید کا انتہائی بلند درجہ ہے۔
	پہلےدرجےوالااخروٹ کےاوپری چھلکےکی مانند ہے،دوسرے درجے والا نچلےچھلکےکی مانندجبکہ تیسرے درجے والا مغز اور چوتھے درجے والا مغز سےنکالے ہوئے تیل کی طرح ہے۔جس طرح اخروٹ کا اوپری چھلکاکوئی فائدہ نہیں دیتا کہ اسے کھایا جائےتو ذائقہ کڑوا ،اندرونی حصہ کو دیکھا جائے تو بدنما،اگر بطور ایندھن لیا جائے تو آگ بجھائے اوردھواں زیادہ دے،اگر گھر میں رکھا جائے تو جگہ گھیرے لہٰذا اس کا کام صرف یہی ہےکہ اسے کچھ عرصہ کےلئے اخروٹ کے اوپر رہنے دیاجائے پھرپھینک دیا جائے۔ اسی طرح تصدیق قلبی کے بغیر صرف زبانی توحیدکا کوئی فائدہ نہیں بلکہ اس کا نقصان زیادہ ہےکہ اس کا ظاہر و باطن قابل مذمت ہےمگر یہ توحیدموت کےوقت تک  نچلےچھلکےکی حفاظت کا کام دیتی ہےکیونکہ نچلا چھلکا انسانی