توحید کے درجات:
توحید کے چاردرجات ہیں:اوپری چھلکاپھر اندرونی چھلکا یونہی مغز اور پھرمغز کامغز۔ کمزور ذہن والے اس کو اس مثال سے سمجھیں مثلاً اخروٹ کے اوپر دو چھلکے ہوتے ہیں اور اس کے اندر ایک مغز ہوتا ہے اور اس میں تیل ہوتا ہے جو مغز کا مغز ہے۔
پہلا درجہ:
انسان زبان سے ”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہ“کہے اور اس کا دل اس سے غافل ہو یا دل سے اس بات کا منکر ہوتو یہ منافقین کی توحید ہے۔
دوسرا درجہ:
زبان سے ”لَا اِلٰهَ اِلَّااللہ“کہے اوردل اس کی تصدیق کرےجیسا کہ عام مسلمان اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ عوام کااعتقاد ہے۔
تیسرا درجہ:
انسان کَشْف کے ذریعہ نورِ حق کی مدد سے چیزوں کامشاہدہ کرے۔یہ مقربین کا درجہ ہےجوجس طرف نگاہ اٹھا کر دیکھتے ہیں انہیں ہرچیز کا تعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی ذات سےنظر آتا ہے۔
چوتھا درجہ:
انسان صرف ایک ہی ذات برحق کی جانب دیکھے۔یہ صدیقین کا درجہ ہے۔اصطلاحِ صوفیہ میں اسے ”فَنَا فِی التَّوْحِیْد“ کہتے ہیں کیونکہ صدیق صرف ایک ہی ذات کو دیکھتا ہےیہاں تک کہ اپنی ذات کو بھی نہیں دیکھتا اور توحید میں غوطہ زن ہونےکی وجہ سے جب اپنی ذات کو نہیں دیکھتاتو وہ اپنے نفس سے بیگانہ ہوجاتا ہے یعنی وہ مخلوق اور اپنے نفس کو دیکھنے سے بیگانہ ہوجاتا ہے۔
پہلے درجے والا صرف زبان سے توحید کا اقرار کرتا ہےاور دنیا میں تیر اور تلوار کےوار (یعنی قتل ہونے) سے بچ جاتا ہےجبکہ دوسرے درجے والا جو دل سے ”لَا اِلٰـهَ اِلَّااللہ“کےمفہوم کااِعتقاد رکھتا ہےاوراس کا دل