دوسری فصل: تَوَکُّل پرمبنی توحید کی حقیقت
توکُّل کے تین لوازِمات:
جان لیجئے! توکل ایما ن کا ایک حصہ ہےاورایمان کے تمام حصے علم ،کیفیت اورعمل کےبغیر مکمل نہیں ہوتے لہٰذاتوکل میں بھی یہ تینوں چیزیں پائی جاتی ہیں۔ علم توکل کی بنیاد ہے، عمل اس کا نتیجہ ہے اور کیفیت سے مراد توکل ہے۔
علم سے کیا مراد ہے؟
علم جو کہ توکل کی بنیاد ہےلُغَوی طور پر اسے ایمان سے تعبیر کرتے ہیں کیونکہ ایمان تصدیق ہے اور جس چیز کی تصدیق دل سے کی جائے وہ علم ہوتا ہےاور جب اس علم کوتقوِیَّت مل جائےتواسے یقین کہا جاتا ہے، اگرچہ یقین کے بہت سے درجات ہیں لیکن ہم یہاں یقین کےصرف اسی درجہ کے متعلق گفتگو کریں گے جس پر توکل کی بنیاد ہے کیونکہ جب تم کہتے ہو:”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہ وَحْدَه لَا شَرِيْكَ لَه یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔“ تو یہ تمہاری توحید کی ترجمانی کرتا ہے اور جب یہ کہتے ہو:”لَهُ الْمُلْكُ یعنی اسی کے لئے بادشاہی ہے۔“ تو تم اس کی قدرتِ کامِلہ پر ایمان لے آئے اور تمہاراکہنا:”لَهُ الْحَمْدُ یعنی اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں۔“ اس بات کی طرف راہ نمائی کرتا ہے کہ تم اس کی جودو سخا اور حکمت پر بھی ایمان لے آئے لہٰذا جس نے کہا:”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَـہٗ لَـهُ الْمُلْكُ وَلَـهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْریعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کے لئے بادشاہی اور تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہرچیز پر قادر ہے“ تو اس کے لئے ایمان کامل ہوگیا جو کہ توکل کی بنیاد ی ضرورت ہے یعنی اس کلمہ کامفہوم دل میں راسخ اور غالب ہوگیا۔
توحید کو توکل کی بنیاد قرار دینے میں بڑی طویل بحث ہےکیونکہ اس کا تعلق عِلْمِ مُکاشَفہ سے ہے لیکن چونکہ علم مکاشفہ کا تعلق کیفیت کے واسطہ سےاعمال کے ساتھ ہوتاہےاور اعمال اس کے بغیر مکمل نہیں ہوتے لہٰذا ہم اتنی ہی مقدار میں توحید کے متعلق گفتگو کریں گے جتنااعمال کے ساتھ اس کا تعلق ہے ورنہ توحید تو ایک ایسا وسیع و عریض سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔