بھیجے ہوئے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کوجھٹلاتے ہیں۔ بےشک وہ اس دن (قیامت میں) اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کے دیدار سے محروم ہیں اور جو بھی محبوب کے دیدار سے محروم ہوتا ہے اس میں اور جسے وہ چاہتا ہے اس میں روک کردی جاتی ہے۔ پس وہ حجاب سے حاصل ہونے والی نارِ فِراق کے سبَب لامُحالہ نارِ جَہَنَّم میں جلتارہے گا۔
عارِفِین کے دوفرمان:
حضراتِ عارِفِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن فرماتے ہیں:”ہمیں نارِ دوزخ کا خوف ہے نہ حورِعِین کی تمنا، ہمارا مقصد تو باری تعالیٰ کی ملاقات ہے اور ہمیں ڈر صرف (دیدارِباری تعالیٰ سے) محرومی کا ہے۔“
نیز انہی نُفُوْسِ قُدْسِیَّہ کا فرمان ہے:”جو شخص کسی عِوَض کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرے وہ کمینہ ہے۔“
وضاحت:
عوض کی خاطر عبادت کرنے والا گویا جنت پانے یا جہنم سے بچنے کے لئے عبادت کرتا ہے جبکہ رب تعالیٰ کی معرفت رکھنے والامحض ذاتِ باری تعالیٰ کی خاطر عبادت کرتااور اسی کا طلب گار ہوتا ہے۔ رہے جنتی میوے اور حورِعِین تو اسے ان کی خواہِش نہیں ہوتی اور وہ نارِ دوزخ سے نہیں ڈرتا(1)کیونکہ جب فِراق کی آگ غَلَبہ کرتی ہے تو اَجسام کو جلانے والی آگ پر بھی اَکثر غالِب آجاتی ہے۔ پس فِراق کی آگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وہ بھڑکتی آگ ہے جو دلوں تک پہنچتی ہے اور دوزخ کی آگ کو صِرف اَجسام سے غَرَض ہے نیز دلوں میں درد ہو تو اجسام کا درد معمولی لگتا ہے۔ اسی لئے کہا گیا:
وَفِیْ فُؤَادِ الْمُحِبِّ نَارُ جَوًی اَحَرُّ نَارِ الْجَحِیْمِ اَبْرَدُ ھَا
ترجمہ:عاشِق کے دل میں شعلہ زن عشق کی آگ کی ٹھنڈک بھی آتِشِ دوزخ سے زیادہ گرم ہے۔
آخرت کی ایسی باتوں کا انکار نہیں کرنا چاہئے جن کی نظیر کا مُشاہَدہ عالَمِ دنیا میں ہوتا رہتا ہے۔ چنانچہ دیکھا جاتا ہے کہ جس پر وَجْد (بےخُودی کی حالت) کاغَلَبہ ہوجاتا ہے وہ آگ اور پاؤں کو زخمی کردینے والے کانٹوں پر بھی چلتا ہے تو اسے مَحسوس تک نہیں ہوتا کیونکہ اس کے دل میں موجود کیفیت کا غلبہ شدت اختیار کرجاتا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اس سے نارِجہنم کی تخفیف(یعنی اسے ہلکاسمجھنا)مرادنہیں ہے بلکہ یہ مقصودہے کہ معرفَتِ الٰہی رکھنے والاجہنم کی آگ کے خوف سے عبادت نہیں کرتابلکہ محض رضائے الٰہی کے حصول کی خاطرعبادت کرتا ہے۔(ازعلمیہ)