Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
739 - 882
 بِحَمْدِہٖ ؕ وَکَفٰی بِہٖ بِذُنُوۡبِ عِبَادِہٖ خَبِیۡرَۨا﴿۵۸﴾ۚ (پ۱۹،الفرقان:۵۸)
مرے گا اور اُسے سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور وہی کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں پر خبردار۔
	پھر فرمایا اس آیت کے بعد کسی بندے کے لئے جائزنہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا کسی کی پناہ لے۔(1)
(3)…ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو خواب میں فرمایا گیا:جس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر بھروسا کیا اس نے اپنی روزی کی حفاظت کرلی۔(2)
(4)…ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:تمہارا رزق تمہیں فرائض و واجبات سے غافل نہ کردے، اس طرح تم اپنی آخرت برباد کردوگے حالانکہ  رزق اتنا ہی ملے گا جتنا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے لکھ دیا ہے۔
(5)…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن مُعاذ رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں:بندےکو بعض اوقات بغیر طلب کے بھی رزق ملتاہےاور یہ اس بات پر دلالت ہے کہ رزق کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ بندے کو تلاش کرے۔
کہاں سے کھاتے ہو؟
	حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم فرماتے ہیں کہ میں نےایک راہب سے  سوال کیا:”تم کہاں سے کھاتےہو؟“ اس نے کہا:”اس کا مجھے علم نہیں البتہ تم میرے رب عَزَّ  وَجَلَّ سے پوچھ لو کہ وہ مجھے کہاں سے کھلاتا ہے۔“
(6)…حضرت سیِّدُنا ہَرَم بن حَیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نے حضرت سیِّدُنا اُوَیْس قَرنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی سے عرض کی:”آپ مجھے مشورہ دیجئے کہ میں کہا ں رہائش اختیا ر کروں؟“انہوں  نے ملک شام کی طرف اشارہ فرمایا۔ میں نے پھر پوچھا:”وہاں کام کاج کیا کروں گا؟“ارشادفرمایا:”جس دل میں (اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر توکل کے معاملہ میں) شک ہو اس دل پر افسوس ہے اور ایسے دل کو نصیحت کوئی فائدہ نہیں دیتی۔“(3)
(7)…ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:’’جب تم نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو اپنا کارساز مان لیاتوتم نے ہربھلائی تک پہنچنے کاراستہ پالیا۔‘‘ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سےحُسْنِ ادب کا  سوال کرتے ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب التوکل علی اللہ، ۱/ ۱۵۳، حدیث:۳۶
2…حلیة الاولیاء،الرقم:۴۴۹، سعید بن یزید، ۹/ ۳۲۳، حدیث:۱۴۰۱۷
3…حلیة الاولیاء،الرقم:۴۵۵، احمد بن ابی الحواری، ۱۰/ ۱۸، حدیث:۱۴۳۴۱