Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
738 - 882
سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کاتوکل:
	ایک روایت میں ہے کہ  جب حضرت سیِّدُنا ابراہیم خلیلُ اللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکومِنْجَنِیْق کے ذریعے آگ میں ڈالاجانے لگا تو حضرت سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی:”آپ کو کوئی حاجت ہے؟“  آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ارشاد فرمایا:”حاجت ہے لیکن تم سے نہیں۔“(1)
	آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے یہ اس وقت فرمایا جب آگ میں ڈالنے کے لئے آپ کو پکڑا گیا۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس قول”حَسْبِیَ اللہ وَ نِعْمَ الْوَکِیْل یعنی مجھے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے“پر عمل فرمایا۔اسی لئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:  وَ اِبْرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰۤی ﴿ۙ۳۷﴾ (پ۲۷،النجم:۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ابراہیم کے جواحکام پورے بجالایا۔
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی:”اے داؤد! میرا جو بندہ  مخلوق کو چھوڑ کر مجھ سے وابستہ ہوجائے اور  پھراہْلِ زمین وآسمان میں سے کوئی اسے فَریب دے تو میں اس کے لئے نکلنے کا راستہ بنادیتا ہوں۔“(2)
توکل سے متعلق سات اقوالِ بزرگانِ دین:
(1)…حضرت سیِّدُنا سعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: مجھے بچھونے ڈس لیا۔ میری ماں نے مجھے قسم دی کہ تم ضرور اپنے ہاتھ پر دم کرواؤ تو میں نے دم کرنے والے کو (جس ہاتھ پر بچھو نے کاٹا تھا اس کے بجائے) دوسرا ہاتھ پکڑوادیا۔(3)
(2)…حضرت سیِّدُناابراہیم خوَّاص عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد  نے قرآن پاک کی یہ آیت پڑھی:
وَ تَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیۡ لَا یَمُوۡتُ وَ سَبِّحْ
ترجمۂ کنز الایمان:اور بھروسہ کرو اس زندہ پر جو کبھی نہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حلیة الاولیاء، مقدمة المصنف، ۱/ ۵۲، حدیث:۳۹ 
	نوادر الاصول للحکیم الترمذی، الاصل الاول، ۱/ ۲۴، حدیث:۷
2…نوادر الاصول للحکیم الترمذی،الاصل التاسع الثمانون والمائة،۲/ ۷۱۳، حدیث:۹۸۳
3…حلیة الاولیاء،الرقم:۲۷۶، سعید بن جبیررضی اللہ عنہ، ۴/ ۳۰۵، حدیث:۵۶۴۵