Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
737 - 882
 سے کردے۔“ ارشاد فرمایا:”عُکاشہ اس معاملہ میں تم پر سبقت لے گئے۔“(1)
(2)…اگر تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر اس طرح توکل کرو جیسا توکل کرنا چاہئے تو وہ تمہیں ضروررزق عطا فرمائے گا جیسا کہ پرندے کوعطا فرماتا ہے کہ پرندہ صبح خالی پیٹ نکلتا ہے اور شام کو سیر ہو کر لوٹتا ہے۔(2)
(3)…جو شخص سب سے تعلق توڑ کر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی جانب متوجّہ ہوجاتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہر مشکل گھڑی میں اسے کافی ہوجاتا ہے اوراُسے ایسی جگہ سے رزق پہنچا تا ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا اور جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے تعلق توڑ کر دنیاکی جانب توجہ کرتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے دنیا کے سِپُر د فرمادیتا ہے۔(3)
(4)…جسے پسندہو کہ وہ لوگوں سے زیادہ مال دار ہوجائے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے مال سے زیادہ اس پر بھروسا کرے جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پاس موجود ہے۔(4)
(5)…جب اہل بیت کو بھوک کی شدت پہنچتی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے: نماز کے لئے کھڑے ہوجاؤ کہ میرے رب عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے اس کا حکم دیا ہے:
وَاۡمُرْ اَہۡلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیۡہَا ؕ (پ۱۶،طہ:۱۳۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنے گھروالوں کو نماز کا حکم دے اور خود اس پر ثابت رہ۔(5)
(6)…اس شخص نے توکل نہیں کیا جس نے اپنے بدن کو داغا(6) اورجھاڑ پھونک کروائی۔ (7)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسندابی داود الطیالسی،الجزء الثانی،ص۴۷،حدیث:۳۵۲
	مسلم،کتاب الایمان،باب الدلیل علی دخول…الخ،ص۱۳۶، حدیث:۲۱۸
2…سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب فی التوکل علی اللہ، ۴/ ۱۵۴، حدیث:۲۳۵۱
3…المعجم الاوسط، ۲/ ۳۰۲، حدیث:۳۳۵۹
4…المستدرک، کتاب الادب، باب لا تتکلموا بالحکمة عندالجاھل، ۵/ ۳۸۴، حدیث:۷۷۷۹
5…المعجم الاوسط، ۱/ ۲۵۸، حدیث:۸۸۶
6…حضرت سیِّدُنا ابن قتیبہ عَلَیْہِ الرَّحْمَہفرماتے ہیں کہ بدن کو داغنے کی دو صورتیں ہیں:(۱)اس نیت سے داغنا تاکہ آئندہ بیماری نہ ہو (۲)زخم خراب ہوگیا ہو یا عضو کٹ گیا ہو تو علاج کی غرض سے داغنا۔ یہاں پہلی صورت مراد ہے۔(فیض القدیر، ۶/ ۱۰۷)
7…مسند ابی داود الطیالسی،الجزء الثالث، ص۹۵،حدیث:۶۹۷