Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
736 - 882
 سیِّدُنا عُکاشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کھڑے ہوئے اور عرض کی:”یارسولَ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے لئے دعا فرمادیجئے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مجھے ان میں سے کردے۔“ نبیّ رحمت، شفیع اُمَّت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دعا فرمائی:”اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!عکاشہ کو ان میں سے کردے۔“ یہ دیکھ کر دوسرے صحابی بھی کھڑے ہوئے اور عرض کی:”یارسولَ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے لئے بھی دعا فرمادیجئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے ان میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……ہوتے تھےجو کفروشرک تک ہوتے تھے اس لئے ابتداءً جھاڑ پھونک سے منع فرمایا،جب لوگوں کو یہ معلوم ہوگیا کہ زمانہ جاہلیت میں رائج منتر پڑھنامنع ہےاور قرآن کریم کی آیت اور احادیث میں وارد دعاؤں سے دَم کرنا جائز ہے تو اجازت دے دی ،ابن وہب (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ)نے ابن شہاب  زہری (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ)سے روایت کی کہ بہت سے اہل علم سے یہ بات مجھ تک پہنچی کہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جھاڑ پھونک سے منع فرمایا یہاں تک کہ مدینہ تشریف لائے اس زمانہ میں بہت سے منترایسے تھے جس میں شرک تھا جب مدینہ تشریف لائے تو ایک صحابی کو کسی جانور نے ڈس لیا  لوگوں نے کہا:یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آل ہزم زہریلے جانوروں کے کاٹے سے جھاڑ پھونک کرتے جب آپ نے منع کردیا تو انہوں نے چھوڑ دیا۔فرمایا:ھزم کو بلاؤ اور یہ بدر میں شریک ہوئے تھے،فرمایا: اپنی دعا مجھے سناؤ،انہوں نے سنایاحضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس میں کوئی حرج نہ جانا اور اجازت دے دی۔(نزھۃ القاری، ۵/ ۵۱۰)
	ایسے تعویذات استعمال کرنا جائز ہے جو آیاتِ قرآنیہ ،اسماء اِلٰہیہ یا دعاؤں پر مشتمل ہو ں۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یہ روایت نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اپنے بالغ بچوں کو سوتے وقت یہ کلمات پڑھنے کی تلقین فرماتے”بِسْمِ اللہ اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِہٖ وَعِقَابِہٖ وَشَرِّعِبَادِہٖ وَمِنْ ھَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ وَاَنْ یَّحْضُرُوْنَ“ اور ان میں سے جو نابالغ ہوتے اور یاد نہ کرسکتے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مذکورہ کلمات لکھ کر ان کا تعویذ بچوں کے گلے میں ڈال دیتے۔(مسند امام احمد بن حنبل،مسندعبداللہ بن عمرو، ۲/ ۶۰۰، حدیث: ۶۷۰۸)
	دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارےمکتبة المدینہ کی مطبوعہ1197 صفحات پر مشتمل کتاب بہارشریعت، جلد3، حصہ14، صفحہ147پرصَدْرُالشَّرِیْعَہ،بَدْرُالطَّرِیْقُہحضرت علامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینقل فرماتے ہیں:تعویذ ایسا ہو کہ اُس میں شرعی قباحت نہ ہو جیسے اَدعیہ اور آیات یا ان کے اعداد یاکسی اسم کانقش مظہر یا مضمر لکھا جائے اور اگر اُس تعویذ میں ناجائز الفاظ لکھے ہوں یاشرک وکفر کے الفاظ پر مشتمل ہو تو ایسا تعویذ لکھنا بھی ناجائز ہے۔
	اسی جلد کے حصہ 16، صفحہ 419تا420پر نقل فرماتے ہیں:گلے میں تعویذ لٹکانا جائز ہے، جبکہ وہ تعویذ جائز ہو یعنی آیاتِ قرآنیہ یا اسماء الٰہیہ یا اَدعیہ سے تعویذ کیا جائے اور بعض حدیثوں میں جو ممانعت آئی ہے اس سے مراد وہ تعویذات ہیں جو ناجائز الفاظ پر مشتمل ہوں، جو زمانَۂ جا ہلیت میں کئے جا تے تھے، اسی طرح تعویذات اور آیات و احادیث و اَدعیہ کو رکابی میں لکھ کر مریض کو بہ نیتِ شفا پلانا بھی جا ئز ہے۔