Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
733 - 882
 اشیاء کی حقیقتیں دیکھ لیتے  ہیں۔چنانچہ ایسے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس میں غورو فکرکرتے ہوئے خوب تحقیق کی اور جو کچھ انہوں نے حق دیکھا اسے اسی طرح بیان کردیا جیسا اسے بیان کرنے کا حق تھا۔ اب ہم ابتدا میں توکل کی فضیلت بیان کریں گےپھراس باب کےپہلے حصہ میں توحید اور توکل کا آپس میں تعلق اور دوسرے حصہ میں توکل کی وضاحت اور اس پر عمل کرنے کے طریقے بیان کریں گے۔
باب نمبر1:			تَوَکُّل کی فضیلت(اس میں دو فصلیں ہیں )
پہلی فصلی:			  تَوَکُّل کی فضیلت کے مُتَعَلِّق آیات واَحادیث
توکل کے متعلق 11 فرامین باری تعالیٰ:
(1)… وَعَلَی اللہِ فَتَوَکَّلُوۡۤا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿۲۳﴾ (پ۶،المائدة:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو اگر تمہیں ایمان ہے۔
(2)… وَعَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوۡنَ ﴿٪۱۲﴾ (پ۱۳،ابراھیم:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے۔
(3)… وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ ؕ (پ۲۸،الطلاق:۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اُسے کافی ہے۔
(4)… اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیۡنَ ﴿۱۵۹﴾ (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۵۹)
ترجمۂ کنز الایمان:بےشک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں۔
	کتنا بڑا مقام ہے اس بندے کا جس کا شمار اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کےمحبوب بندوں میں ہواورجس کے مُعا مَلات اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ذِمَّۂ کرم پر ہوں۔ جس کے لئےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کافی ہواور وہی اس کا محب اور نگہبان ہو تو اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی کیونکہ محبوب کو نہ سزا دی جاتی ہےنہ اپنے قُرب سے دور کیا جاتا ہےاورنہ ہی اس کے