توحید اور تَوَکُّل کا بیان
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کےلئے تمام تعریفیں ہیں جو اپنی بادشاہت او ر عظیم الشان سلطنت کے نظام کو بہترین انداز میں چلانے والا، عزت وعظمت میں منفرد و یکتا ہے۔ آسمان کو بغیر سُتُون کے بلند کرنے والااوراس میں لوگوں کے رزق مقرر فرمانے والا ہے۔ جس نے عقل اور سمجھ بوجھ رکھنے والوں کی آنکھوں کو وسائل و اسباب کی طرف نظر کرنے سے روک کراپنی ذات برحق کی طرف پھیر دیااور ان کی ہمتوں اور ارادوں کو دوسری جانب متوجّہ ہونے اور دوسرے پر اعتماد کرنے سے ہٹادیا۔ عقل اور سمجھ رکھنے والے اسی کی عبادت کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتےہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایک ہے، بےنیاز ہےاور وہی معبود ہےاور انہیں یقین ہے کہ ساری مخلوق انہیں کی مثل بندے ہیں جن سے رزق نہیں مانگا جاسکتاکیونکہ ہرایک ذرّہ اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور زمین پر چلنے والی ہر چیز کا رزق اسی کے ذِمَّۂ کرم پر ہےاور جب انہیں دَرَجَۂ یقین حاصل ہوگیا کہ وہی اپنے بندوں کے رزق کا ضامن اور کفیل ہے تو انہوں نے اسی پر توکل کیا اور کہا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔“
بےشمار درودو سلام ہو ہمارے پیارے آقا محمدعَرَبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جو باطل کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینے والے اور سیدھے راستے کی طرف راہ نمائی کرنے والے ہیں اور آپ کی مبارک آل پر بھی خوب درود وسلام ہو۔
توکل کی اہمیت:
توکُّل دین کی منزلوں میں سے ایک منزل اور یقین رکھنے والوں کے مقامات میں سے ایک مقام ہے بلکہ یہ قُربِ الٰہی رکھنے والوں کے بلند درجات میں سے ایک درجہ ہے،توکل درحقیقت علم کے اعتبار سے پیچیدہ اور عمل کے اعتبار سے نہایت مشکل ہے۔پیچیدہ اس لئے ہےکہ اسباب پر نگاہ رکھنا اور ان پر بھروسا کرنا توحید میں شراکت ہےجبکہ اسباب کو بالکل ہی چھوڑ دیناسنّت سے منہ موڑنااور شریعت کے خلاف ہےنیز اسباب پر اس طرح اعتماد کرنا کہ انہیں اسباب ہی خیال نہ کیا جائے عقل کے خلاف اور جہالت کے دریا میں غوطہ زن ہونا ہے۔
توکل کی تعریف اس طرح کرنا کہ وہ توحید اور شریعت کے تقاضوں کے عین مطابق رہے انتہائی مشکل اور مَخْفِی ہے، لہٰذا اس راز سے پردہ اٹھانے پرایسے جَیِّد عُلَماہی قادر ہوسکتے ہیں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل و کرم سے