زاہدین کی صحبت میں بیٹھنے کا شرف کب حاصل ہوگا؟
ایک شخص نےحضرت سیِّدُنا یحییٰ بن معاذرازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیسے عرض کی:مجھے توکُّل کی دکان میں داخل ہوکر زہد کی چادراوڑھنے اور زاہدین کی صحبت میں بیٹھنے کا شرف کب حاصل ہوگا؟فرمایا:یہ اس وقت ہوگا جب تم پوشیدہ طور پر نفسانی مجاہَدات کرکے اس مقام تک پہنچ جاؤ کہ اگراللہ عَزَّ وَجَلَّتین دن تک تمہیں رزق عطا نہ فرمائے تو بھی تمہارا یقین کمزور نہ ہو۔اس مقام تک پہنچے سے پہلے تمہارا زاہدین کی مَسْنَد پر بیٹھنا جہالت ہے بلکہ مجھےاس صورت میں تمہاری رسوائی کا اندیشہ ہے۔
زاہد و عارف میں فرق:
حضرت سیِّدُنایحییٰ بن معاذ رازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:دنیا ایک دلہن کی مانند ہے،جو اسے طلب کرتا ہے وہ گویا اس کی کنگھی کرتااور سجاتا سنوارتا ہے، زاہد اس دلہن کا چہرہ سیاہ کرتا ،بال اکھاڑتا اور کپڑ ے پھاڑتا ہے جبکہ معرفَتِ الٰہی رکھنے والا شخص نہ تو اس دلہن کو سنوارتا ہے اور نہ ہی بگاڑتا بلکہ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ مشغول رہتا ہے۔
حضرت سیِّدُنا سری سقطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:میں نے ہر معاملے میں زہدکو تلاش کیا اور اسے پالیا البتہ لوگوں (سے میل جول وغیرہ)کے معاملے میں زہد کو حاصل نہ کرسکا۔
محبَّتِ دنیاہربرائی کی جبکہ زہد ہر بھلائی کی کنجی ہے:
حضرت سیِّدُنا فضیل بن عِیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تمام کی تمام برائیوں کو ایک گھر میں رکھ کر دنیا کی محبت کو اس گھر کی چابی بنادیا ہے اور تمام کی تمام بھلائیوں کو دوسرے گھر میں رکھ کر دنیا سے بے رغبتی کو اس کی چابی بنادیا ہے۔
زہد کی حقیقت اور احکام سے متعلق جس قدر باتوں کو ذکر کرنے کا ہم نے ارادہ کیا تھا یہاں وہ کلام مکمل ہوا۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ!اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم سے’’فقروزہدکابیان‘‘مکمل ہوا