٭…حضرت سیِّدُناابوزکریا یحییٰ بن معاذ رازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:زہد کی علامت یہ ہے کہ جو کچھ موجود ہو اس میں سخاوت سے کام لیا جائے۔
٭…حضرت سیِّدُنا محمد بن خُفَیْف شیرازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:زہد کی علامت یہ ہے کہ اپنی ملکیت میں موجود چیزوں کو خرچ کرنے سے راحت وسکون حاصل ہو۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہی سے منقول ہے کہ زہد اس چیز کا نام ہے کہ بندے کا دل بغیر کسی تکلف کے دنیا سے الگ ہوجائے ۔
٭…حضرت سیِّدُناابوسلیمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:اونی لباس پہننا زہد کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، لہٰذا زاہد کے لئے یہ بات مناسب نہیں کہ وہ پہنے تو تین درہم کا اُونی لباس لیکن دل میں پانچ درہم کے لباس کی رغبت ہو۔
٭…حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل اورحضرت سیِّدُنا سُفیان ثوریرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمَافرماتے ہیں:زہد کی علامت صرف یہ ہے کہ بندے کی امیدیں مختصر ہوں۔
٭…حضرت سیِّدُناسَری سَقَطِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:زاہد اگر اپنے نفس سے غافل ہوجائے تو اس کی زندگی پاکیز ہ نہیں ہوسکتی اور عارف اگراللہ عَزَّ وَجَلَّ سے غافل ہوکر اپنے نفس میں مشغول ہوجائے تواس کی زندگی بھی پاکیز ہ نہیں ہوسکتی ۔
٭…حضر ت سیِّدُناابوالقاسم ابراہیم بن محمد نصرآ باذیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:زاہد دنیا کے اعتباراور عارف آخرت کے اعتبار سے اجنبی و مسافر ہوتا ہے۔
٭…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن معاذ رازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:زہد کی تین علامات ہیں:(۱)…صرف اور صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے عمل کرنا(۲)…کسی قسم کی لالچ کے بغیر گفتگوکرنااور(۳)…بغیر حکومت کے عزت وآبر وقائم ہونا۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:زاہدتمہیں سرکہ اورروئی سنگھاتا ہے جبکہ عارف مشک اور عنبر۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…کیونکہ زاہد کی گفتگودنیا کی مَذمَّت پر مشتمل ہوتی ہے اور اس قسم کی باتیں نفس پر گراں گزرتی ہیں جبکہ عارف کا کلام اللہ عَزَّ وَجَلَّکی معرفت،اس کے جمال وجلال اور مخلو ق پر انعام واکرام پر مشتمل ہوتا ہے۔(اتحاف السادة المتقین،۱۱/ ۷۳۸)