Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
73 - 882
 طرف تقسیم ہوتا ہے جن کی گنتی اور حدبندی ممکن نہیں۔
	سمجھ لیجئے کہ ایسے ہی آخرت میں بھی لوگوں کے درجات میں فرق ہوگا۔ کوئی ہلاک ہوگا، کوئی ایک مدت تک عذاب کا شکار بنے گا، کوئی نجات پاکر جنّت میں پہنچ جائے گا اور کوئی کامیاب ہوگا۔ پھر کامیاب ہونے والوں کی بھی  کئی قسمیں ہوں گی۔ کوئی جنتِ عدن میں، کوئی جنتُ الماوٰی میں اور کوئی جنت الفردوس میں جگہ پائے گا۔ یوں ہی عذاب پانے والوں کی بھی کئی قسمیں ہوں گی۔ کسی کو تھوڑا عذاب ہوگا، کسی کو ایک ہزار سال تک اور کسی کو سات ہزار سال تک بھی عذاب دیا جائے گا اور سات ہزار سال تک عذاب میں مبتلا رہنے والا شخص وہ ہوگا جسے سب سے آخر میں جہنم سے نکالا جائے گا جیساکہ حدیث شریف میں آیا ہے۔(1) اسی طرح رحمَتِ باری تعالیٰ سے مایوس اور ہلاک ہونے والوں کے جہنمی ٹھکانوں میں فرق ہوگا۔ حاصل یہ ہے کہ یہ درجات فرمانبرداریوں اور نافرمانیوں میں اختلاف کے لحاظ سے ہیں۔ اب ہم اس تقسیم کی کیفیت کو بیان کرتے ہیں۔
قیامت میں حاصل ہونے والے چار درجات
 کی کیفیت وتفصیل
پہلے درجے کی تفصیل:
	یہ ہلاک ہونے والوں کا درجہ ہے اور ان سے ہماری مراد اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت سے مایوس ہونے والے ہیں کیونکہ ہماری بیان کردہ مثال میں بادشاہ جسے قتل کرتا ہے وہ بادشاہ کے راضی ہونے اور احسان کرنے سے مایوس ہوجاتا ہے ،لہٰذا مثال کے معنی ومفہوم سے غافل نہ ہوجائیے گا۔ یہ درجہ ان کے لئے ہے جو تسلیم نہیں کرتے، اعراض کرتے ہیں، صرف دنیا کے ہوکر رہ جاتے ہیں اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ، اس کے رسولوں عَلَیْہِمُ السَّلَام اور اس کی کتابوں کو جھٹلاتے ہیں۔ اُخروی سعادت تو باری تعالیٰ کے قرب اور اس کے دیدار میں ہے اوریہ اسی معرفت سے حاصل ہوسکتی ہے جسے ایمان اور تصدیق سے تعبیر کیا جاتاہے جبکہ تسلیم نہ کرنے والے منکر ہیں اور جھٹلانے والے رحمَتِ الٰہی  سے ہمیشہ کے لئے مایوس ہیں اور وہ سارے جہانوں کےرب عَزَّ  وَجَلَّ اوراس کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شرح الشفاء للملاعلی القاری،فصل فی تفضیلہ صلی اللہ علیہ وسلم بالشفاعة…الخ،۱/ ۴۷۹۔