Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
729 - 882
 سیِّدُناابوسلیمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِینےفرمایا:”میری مراد یہ تھی کہ وہ زہد کی حقیقت تک پہنچے ہوئے تھے۔“
	حقیقت سے آپ نے انتہائی درجہ مراد لیا ہے۔اس لئے کہ بظاہرزہد کی کوئی انتہانہیں ہے کیونکہ نفس کی صِفات کثیر ہیں اوران تمام صِفات میں زہد اختیار کرکے ہی زہد کی انتہا تک پہنچا جاسکتا ہے(گویا  حضرت سیِّدُنا داؤد طائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنفس کی تمام ہی صِفات میں زہد اختیارکرچکے تھے)۔
	ہر وہ شخص جو قدرت واستطاعت کے باوجود اپنے دل کے فساد اور دینی نقصان کے خوف سے دنیا کی کسی چیز کو ترک کردے تو اس نے جتنی مقدار میں دنیا کو ترک کیا اتنی مقدار میں اسے زہد کی دولت حاصل ہے جبکہ زہد کی انتہا یہ ہے کہ وہاللہ عَزَّ  وَجَلَّکے سوا ہر چیز کو ترک کردے یہاں تک کہ پتھر کو تکیہ بھی نہ بنائے جیسا کہ حضرت سیِّدُنا عیسٰیرُوْحُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کیا تھا۔
	ہماللہ عَزَّ  وَجَلَّسے اس بات کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں زہد کے ابتدائی درجات میں سے کوئی حصہ عطا فرمادے اگرچہ وہ قلیل ہی کیوں نہ ہو کیونکہ ہم جیسے لوگ اس بات کی جرأت نہیں کرسکتے کہ زہد کے انتہائی درجات کو پانے کا لالچ کریں اگرچہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فضل وکرم سے مایوسی ممنوع ہے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے ظاہر وباطن میں ہم پر جو انعامات فرمائے ہیں جب ہم ان میں  غور وفکرکرتے ہیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے لئے کوئی بات مشکل نہیں ہے،اس لئے اگرہماللہ عَزَّ  وَجَلَّکےبے پایاں  فضل وکرم پر اعتماد کرتے ہوئے زہد کے انتہائی درجات کو پانے کا سوال کریں تو یہ بھی بعید نہیں ہے۔
خلاصَۂ کلا م:
	 زہد کی علامت یہ ہے کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی محبت کے غَلَبے کے باعث بندے کے نزدیک فقرو مال داری، عزت وذلت اور تعریف ومَذمَّت برابر ہوں۔ان علامات سے لازمی طور پر کچھ دیگر علامات ظاہر ہوتی ہیں جو انہیں کی شاخیں ہیں۔ مثلاً: یہ کہ دنیا کو ترک کردے اور اس بات کی پروا نہ کرے کہ اسے کون حاصل کرتا ہے۔
زہد کی علامات سے متعلق مختلف اقوال:
٭… زہد کی علامت یہ ہے کہ دنیا جیسی بھی ہو اسے چھوڑ دے اور یہ نہ کہے کہ میں اس کے ذریعے مسافر خانہ بناؤں گا یا مسجدتعمیر کروں گا۔