اہْلِ معرفت فرماتے ہیں:جب ایمان کا تعلق دل کے ظاہری حصے سے ہوتا ہے تو بندہ دنیا وآخرت دونوں سے محبت کرتا اور دونوں کے لئے عمل کرتا ہےلیکن جب ایمان دل کی گہرائی میں جڑ پکڑ لیتا اور خوب مضبوط ہوجاتا ہے تو پھر بندہ دنیا سے نفرت کرنے لگتا ہے ،اب وہ نہ تو دنیا کی طرف دیکھتا ہے اور نہ ہی اس کے لئے کوئی عمل کرتا ہے۔
سیِّدُناآدمعَلَیْہِ السَّلَامکی دعا:
اسی لئے حضرت سیِّدُناآد مصَفِیُّاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامیہ دعاکیاکرتے تھے:اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَسْئَلُكَ اِيْمَانًـا يُّبَاشِرُ قَلْبِیْیعنی اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں جو میرے دل کے ساتھ رہے۔(1)
زہد کے دو مقامات:
حضرت سیِّدُناابوسلیمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں:جو اپنے نفس میں مشغول ہوتا ہے وہ لوگوں سے بے نیاز ہوجاتا ہے جو کہ عامِلین کا مقام ہے اور جوشخص اپنے رب کے ساتھ مشغول ہوتا ہے وہ اپنے نفس سے بھی بے نیاز ہوجاتا ہے(2)اور یہ عارفین کا مقام ہے۔
زاہد کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان دونوں میں سے کسی ایک مقام میں ہو،پہلا مقام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے نفس میں مشغول رکھے،اگر ایسا کرے گا تو اس کے نزدیک تعریف ومَذمَّت اور کسی چیز کا ہونا نہ ہونا برابر ہوجائے گا۔اگر کسی شخص کے پاس قلیل مقدار میں مال موجود ہو تو اس بنا پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ مکمل طور پر زہد کی دولت سے محروم ہے۔
وہ کیسے زاہد تھے؟
حضرت سیِّدُناابوالحسن احمد بن ابی الحواریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیبیان کرتے ہیں:میں نے حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیسے اِستفسارکیا:کیا حضرت سیِّدُناداؤد بن نصیرطائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہزاہد تھے؟ فرمایا:ہاں!میں نے عرض کی:مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ انہیں اپنے والد کی میراث سے20 دینار ملے تھے جنہیں انہوں نے20 سالوں میں خرچ کیا،بھلا وہ کیسے زاہد تھے کہ ان دیناروں کو اپنے پاس روکے رکھا؟ حضرت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المعجم الاوسط،۴/ ۲۷۵، حدیث:۵۹۷۴
2…شعب الایمان للبیھقی، باب فی تحریم اعراض الناس،۵/ ۳۱۲،حدیث:۶۷۶۵