دنیا کی طرف مائل ہونے اور خواہشات کی پیروی کرنے کے باوجود اپنے لئے بلند مقام کا دعوٰی کرتے ہیں۔‘‘
زہد کی تین علامات
بہرحال زہد کی پہچان ایک مشکل معاملہ ہے بلکہ خود زاہد کے لئے بھی اپنے زہد کو پہچاننا دشوار ہوتا ہے البتہ تین علامات ایسی ہیں جن پر اعتماد کرکے زہد کی پہچان کی جاسکتی ہے:
پہلی علامت:
جو چیز موجود ہے اس پر خوش نہ ہو اور جو موجودنہیں اس پر غمگین نہ ہوجیساکہ ارشادباری تعالیٰ ہے:
لِکَیۡلَا تَاۡسَوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَ لَا تَفْرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰىکُمْ ؕ (پ۲۷،الحدید:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اس لئے کہ غم نہ کھاؤ اس پر جو ہاتھ سے جائے اور خوش نہ ہو اس پر جو تم کو دیا۔
بلکہ زاہد کامعاملہ اس کے برعکس ہونا چاہئے کہ مال کی موجود گی پر غمزدہ اورغیر موجودگی پرمسرورہو۔ یہ مال میں زہد کی علامت ہے۔
دوسری علامت:
زاہدکے نزدیک مَذمَّت اور تعریف کرنے والا برابر ہو۔یہ ’’جاہ‘‘میں زہد کی علامت ہے۔
تیسری علامت:
زاہدکوصرفاللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت ہو،اس کے دل پراللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت واطاعت کی حلاوت ومٹھاس غالب ہوکیونکہ کوئی بھی دل محبت کی حلاوت سے خالی نہیں ہوتایا تو اس میں محبَّتِ دنیا کی حلاوت ہوتی ہے یا پھرمحبَّتِ الٰہی کی حلاوت۔پانی اور ہوا ایک ہی برتن میں جمع نہیں ہوسکتے ،جب کسی برتن میں پانی داخل ہوتا ہے تو ہوا نکل جاتی ہے،محبَّتِ الٰہی اور محبَّتِ دنیا کابھی یہی معاملہ ہے کہ یہ دونوں ایک ہی دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔جو شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّسے مانوس ہوجاتا ہے وہ اسی کی محبت میں مگن رہتا ہے کسی دوسرے کی طرف مائل نہیں ہوتا، اسی لئے جب حضرت سیِّدُنا ابومحمد سِباع موصلیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے پوچھا گیا کہ زہد زاہدین کو کہاں لے جاتا ہے ؟تو انہوں نے جواب دیا:’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت تک۔‘‘بہر حالاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت اور دنیا کی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔