Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
726 - 882
 فرشتوں میں سےایککہتا ہے:اے خیر کے طالب!آگے بڑھ اور اے شر کے طالب !باز آ۔دوسراکہتا ہے: اےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ عطا فرمااور بخل کرنے والے کے مال کو ہلاک فرما۔مغرب میں موجود دو فرشتوں میں سے ایک کہتا ہے:مرنے کے لئے پیدا کرو اور ویران ہونے کے لئے تعمیر کرو۔ دوسرا کہتا ہے:طویل حساب کے لئے کھاؤ اور دنیوی نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ۔
غَلَط فہمی کا اِزالہ:
	بعض اوقات یہ گمان کیا جاتا ہے کہ زاہد وہ شخص ہے جو مال کو ترک کردے حالانکہ ایسا نہیں ہے،جو شخص زہد کے حوالے سے لوگو ں کی  طرف سے کی جانے والی تعریف وتوصیف کو پسند کرتا ہے اس کے لئے مال ودولت کو ترک کرنا اور سادہ زندگی گزارناآسان ہوجاتا ہے۔دنیا ترک کرنے والے کئی ایسے ہیں جنہوں نے اپنے نفس کو دن بھر میں قلیل غذا  پر گزارہ کرنے کا عادی بنالیا اور اپنے آپ کو ایسے عبادت خانوں میں قید کرلیا جن کا کوئی دروازہ نہیں ،ان تمام مشقتوں کے عوض وہ صرف اتنی بات سے خوش ہوجاتے ہیں کہ لوگوں کو ان کی یہ حالت معلوم ہوجائے ،وہ انہیں دیکھیں اور زہد اختیار کرنے پر ان کی تعریف کریں،لہٰذا صرف مال کو ترک کردینا حصولِ زہد کی قطعی دلیل نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کے دلوں میں عزت ومنزلت کی خواہش کا ترک کرنا بھی ضروری ہے تاکہ تمام دنیوی خواہشات میں زہد کی تکمیل ہوجائے۔
	بعض لوگ تو ایسے بھی ہیں جو عمدہ اونی جبے اور مہنگے ملبوسات پہننے کے باوجود زہد کا دعوٰی کرتے ہیں، جیسا کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم خواصرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:’’بعض لوگوں نے زہد کا دعوٰی کیا اور عمدہ لباس پہنے جن کے ذریعے وہ لوگوں کویہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ انہیں اسی قسم کے عمدہ لباس دیئے جائیں تاکہ لوگ انہیں اس طرح حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں جیسے فقرا کو دیکھتے ہیں اور نہ ہی انہیں مسکینوں کی طرح صَدَقہ وخیرات دیں۔جب ایسوں کو مجبور کرکے حقیقَتِ حال دریافت کی جاتی ہے تو یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ ہم علم اور سنت کی اتباع کرنے والے ہیں،دنیا ہمارے پاس حاضر ہوتی ہے ہم اس کے پاس نہیں جاتے  اورہم یہ تحائف  لوگوں کی وجہ سے قبول کرتے ہیں۔یہ سب لوگ اپنے دین کے بدلے دنیا کھانے والے ہیں،نہ تو انہیں اپنے باطن کی صفائی کی کوئی فکر ہے اور نہ ہی اَخلاقیات کی اصلاح کی کوئی پروا،ان کی باطِنی صفات ظاہر ہوکر ان پر غالب آجاتی ہیں اوریہ لوگ