Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
725 - 882
 وَالَّذِیۡنَ ہُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوۡنَ ۙ﴿۷﴾  (پ۱۱،یونس:۷)
مطمئن ہوگئے اور وہ جو ہماری آیتوں سے غفلت کرتے ہیں۔
	ایک جگہ ارشاد فرمایا:
وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنۡ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَکَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا ﴿۲۸﴾ (پ۱۵،الکھف:۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیااور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا۔
	ایک مقام پر ارشاد فرمایا: فَاَعْرِضْ عَنۡ مَّنۡ تَوَلّٰی ۬ۙ عَنۡ ذِکْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ﴿ؕ۲۹﴾ ذٰلِکَ مَبْلَغُہُمۡ مِّنَ الْعِلْمِ ؕ(پ۲۷،النجم:۳۰،۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان:تو تم اس سے منہ پھیر لو جو ہماری یاد سے پھرا اور اس نے نہ چاہی مگر دنیا کی زندگی یہاں تک ان کے علم کی پہنچ ہے۔
	ان آیاتِ مُقَدَّسہ میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان لوگوں کے دنیا میں اِنہِماک اور اس کی محبت میں گم ہونے کو ان کی غفلت اور لاعلمی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
تعجب انگیز بات:
	ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا عیسٰیرُوْحُاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے عرض کی:مجھے بھی اپنے ساتھ سفر کرنے کی اجازت عنایت فرمادیں۔ارشاد فرمایا:اپنا مال خیرات کردو اور میرے ساتھ آجاؤ۔اس نے عرض کی:میں ایسا نہیں کرسکتا۔اس پرارشادفرمایا:مال دار کا جنَّت میں داخل ہونا تعجب انگیز بات ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ مال دار جنَّت میں مشکل سے داخل ہوگا۔
فرشتوں کی چار ندائیں:
	ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:روزانہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو چار فرشتے دنیا میں چار ندائیں کرتے  ہیں:ان میں سے دو فرشتے مشرق میں نداکرتے  ہیں اور دو مغرب میں:مشرق میں موجود دو