كَدُوْدٌ كَدُوْدِ الْقَزِّ يَنْسِجُ دَائِمًا وَّيَهْلِكُ غَمًّا وَّسْطَ مَا هُوَ نَاسِجُهٗ
ترجمہ:دنیا دار انسان ریشم کے کیڑے کی طرح ہوتا ہے جو ہمیشہ ریشم بُنتا رہتاہے اور آخرِ کار اپنے ہی بُنے ہوئے ریشم کے درمیان غمگین حالت میں ہلاک ہوجاتا ہے۔
اولیائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام پر چونکہ یہ بات مُنکَشِف ہوگئی تھی کہ بندہ خود اپنے اعمال کے ذریعے اور نفسانی خواہشات کی پیروی کے سبب ریشم کے کیڑے کی طرح ہلاکت میں مبتلا ہوتا ہے اس لئے ان نُفُوسِ قُدسیہ نے مکمل طور پر دنیا کو ترک کردیا تھا۔
حرام تو حرام حلال سے بھی اجتناب کرتے:
حضرت سیِّدُنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:میں نے70کے قریب بدری صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی زیارت کی ہے کہ تم لوگ حرام چیزوں سے جتنا بچتے ہو اس سے کہیں زیادہ وہ حلال چیزوں سے اِجتناب کرتے تھے۔
مصیبتوں اور پریشانیوں پر خوش ہونے والے:
ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا:وہ حضرات مصیبتوں اور پریشانیوں پر اس سے زیادہ خوش ہوتے تھے جتنا تم لوگ خوش حالی اور فراخی پر خوش ہوتے ہو۔اگر تم انہیں دیکھ لو تو پاگل اور مجنون قرار دو جبکہ اگر وہ تمہارےنیک لوگوں کو دیکھ لیں تو کہیں کہ دین میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور اگر تمہارے برے لوگوں کو دیکھ لیں تو کہہ اٹھیں کہ یہ لوگ آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے۔اگر ان میں سے کسی کو مالِ حلال دیا جاتا توبھی وہ نہ قبول کرتااور فرماتا :مجھے اس بات کا خوف ہے کہ(اس مال کو قبول کرنے سے )میرے دل میں فسا د پیدا ہوجائے گا۔
جس کا دل زندہ ہوتا ہے وہ اس کے فسا د سے خوف زدہ رہتا ہے جبکہ جن لوگوں کے دل دنیا کی محبت نے مردہ کردیئےہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّان کے بارے میں خبر دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
وَ رَضُوۡا بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوۡا بِہَا
ترجمۂ کنز الایمان:اوردنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے اور اس پر