Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
723 - 882
 اس کے اور اس کی محبوب دنیا کے درمیان جدائی فرمادیں گے،اب اس شخص کی حالت یہ ہوگی کہ دنیا جو اس سے چھوٹ چکی ہے دل میں موجود اس کی محبت کی زنجیریں اسے دنیا کی طرف  کھینچیں گی اور موت کے پنجے اس کی رگوں میں پیوست ہوکر اسے آخرت کی طرف گھسیٹیں گے۔موت کے وقت ایسے شخص کی حالت کم سے کم اس شخص جیسی ہوگی جس کے جسم کو آری سے کاٹا جائے  اور دونوں طرف سے کھینچ کر جسم کے ایک حصے کو دوسرے سے الگ کیا جائے۔جس شخص کےجسم کو آری سے کاٹا جائے پہلے اس کے بدن کو تکلیف ہوتی ہے، پھر بدن سے سرائیت کرکے دل تک پہنچتی ہے (اس کے باوجود دل کو پہنچے والی یہ تکلیف انتہائی شدید ہوتی ہے )تو پھر اس تکلیف کی شدت کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جو بغیر کسی واسطے کے اولاً دل کو ہی پہنچتی ہے۔ 
	اَعْلٰی عِلِّیِیْن  میں قیام اورقُربِ الٰہی سے محرومی کی حسرت سے قبل یہ پہلا عذاب ہوگا جو مرنے والے کو درپیش ہوگا۔دنیا کی محبت کی وجہ سے ایسا شخصاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی زیارت سے محروم رہے گا اور اس پر جہنم کی آگ مُسَلَّط کردی جائے گی کیونکہ دوزخ کی آگ ایسے لوگوں کے لئے خاص ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
کَلَّاۤ اِنَّہُمْ عَنۡ رَّبِّہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوۡبُوۡنَ ﴿ؕ۱۵﴾ ثُمَّ اِنَّہُمْ لَصَالُوا الْجَحِیۡمِ ؕ﴿۱۶﴾ (پ۳۰،المطففین:۱۶،۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان:ہاں ہاں بے شک وہ اس دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہیں پھر بے شک انہیں جہنم میں داخل  ہونا۔
	یہاں دیدارِباری تعالیٰ سے محرومی کی تکلیف کے بعد جہنم کے عذاب کو بھی بیان کیا گیا ہےحالانکہ اگر جہنم کا عذاب نہ ہوتا،صرفاللہ عَزَّ  وَجَلَّکے دیدار سے محرومی کی تکلیف ہوتی تو یہ بھی بہت بڑی سزا تھی چہ جائیکہ جب اس کے ساتھ ساتھ عذابِ جہنم میں بھی مبتلا کیا جائےگا۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے سواہرمحبوب سے جدائی ہے:
	ہماللہ عَزَّ  وَجَلَّسے اس بات کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے دلوں میں اس بات کو راسِخ فرمادے جو حضورسیِّدعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قلْبِ اطہر میں ڈال دی گئی تھی کہ:اَحْبِبْ مَنْ اَحْبَبْتَ فَاِنَّكَ مُفَارِقُهٗ یعنی چاہے جس سے بھی محبت فرمائیں آخر کار اس سے جدا ہونا ہے۔(1)
	ماقبل ہم نے ریشم کے کیڑے کی جو مثال بیان کی ہے اسی معنیٰ کو بیان کرتے ہوئے ایک شاعر کہتا ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…شعب الایمان للبیھقی، باب فی الزھد وقصر الامل،۷/ ۳۴۸، حدیث:۱۰۵۴۰