کہ کسی دنیوی چیز کا سوال کرنے پر کہیں تو مجھ سے ناراض نہ ہوجائے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنےارشاد فرمایا:کیا آپ نہیں جانتے کہ جو چیز ضرورت کی مقدار ہو وہ دنیا میں سے نہیں ہے۔(1)
بہرحال ضرورت وحاجت کی مقدار دنیا کا حصول دنیا نہیں بلکہ دین میں شامل ہے جبکہ بقدرِ حاجت سے زیادہ دنیا حاصل کرنا نہ صرف آخرت بلکہ دنیا میں بھی مصیبت وپریشانی کا باعث ہے۔جو شخص مال داروں کے حالات کی خبر رکھتا ہے وہ اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ مال کمانے،اسے جمع کرنےاوراس کی حفاظت کے لئے انہیں کیسی کیسی پریشانیوں اور ذِلَّتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایسے شخص کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنا سارا مال مرنے کے بعد وُرثاء کے کھانے کے لئے چھوڑ جاتا ہے جو کہ درحقیقت اس کے دشمن ہوتے ہیں(کہ مالِ وراثت پانے کے لئے اس کی موت کا انتظار کرتے ہیں)۔ورثاء بعض اوقات اس کے مال کو گناہوں میں استعمال کرتے ہیں اور یوں یہ گناہوں کے معاملےمیں ان کی مدد کا باعث بنتا ہے۔
دنیا جمع کرنے والے شخص کی مثال:
دنیا جمع کرنے اور نفسانی خواہشات کے پیچھے چلنے والے شخص کی مثال ریشم کے کیڑے جیسی ہے کہ وہ اپنے اردگرد ریشم بُنتا رہتا ہے اور جب نکلنا چاہتا ہے تو نکلنے کا راستہ نہیں پاتا اور اپنے ہی بُنے ہوئے ریشمی جال میں پھنس کر ہلاک ہوجاتا ہے۔ہر وہ شخص جو دنیوی شہوات کی اِتِّباع کرتا ہے اس کا معاملہ بھی یہی ہےکہ وہ اپنے دل کو دنیوی خواہشات کی زنجیروں میں قید کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ یہ زنجیریں اسے گھیر لیتی ہیں ۔مال وجاہ اور اہل وعیال کی محبت نیز دشمنوں کے نقصان پر خوش ہونے اور دوستوں کے لئے جھوٹی مُرَوَّت اور دیگر دنیوی معاملات کی زنجیریں اسے چاروں طرف سے جکڑ لیتی ہیں۔ اگر اسے اس بات کا احساس ہوبھی جائے کہ اپنے آپ کو ان زنجیروں میں قید کرکے اس نے غلطی کی ہے اور دنیا کو ترک کرنے کا ارادہ کرے تووہ اس بات پر قادر نہیں ہوتا اور اپنے دل کو ایسی بیڑیوں اور زنجیروں میں مُقَیَّد پاتا ہے جن کو کاٹنا اس کے بس سے باہر ہوتا ہے۔ایسا شخص اگر اپنی محبوب اشیاء میں سے کسی چیز کو اختیاری طور پر ترک کرے تو اس کے فِراق میں اس کی حالت ایسی ہوجاتی ہے کہ گویا یہ موت کے قریب ہے یہاں تک کہ مَلَکُ الْمَوْتعَلَیْہِ السَّلَاماچانک تشریف لا کر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون،شرح مقامات الیقین،۱/ ۴۰۹