ہےاور ان دونو ں کے درمِیان مختلف دَرَجات ہیں جن کےبارے میں شُبہات ہیں۔مال وجاہ کی وہ مقدار جو ضرورت سے زائد کےقریب ہو وہ اگرچہ زہرِ قاتل نہ ہو لیکن نقصان دہ ہے اور جو مقدار ضرورت کے قریب ہو وہ اگر دوائے نافع نہ بھی ہوتو کم نقصان دہ ہے۔زہر کا پینا حرام اور دوا کا استعمال ضروری ہے(1) جبکہ ان دونوں کے درمیان موجود معاملات مشتبہ ہیں۔جوشخص ان معاملات میں احتیاط سے کام لے تو اس احتیاط کا فائدہ اسی کی ذات کو ہوگا اور اگر بے احتیاطی برتے تو نقصان بھی وہ خو د ہی اٹھائے گا۔جو شخص اپنے دین کو شبہات سے پاک کرنے کی کوشش کرے،شک میں ڈالنے والی چیزوں کو ترک کرکے غیر مشکو ک چیزوں کو اختیار کرےاور اپنے نفس کو بقدرِ ضرورت دنیا پر گزارہ کرنے کا عادی بنالے تو یہی وہ شخص ہے جو احتیاط کا دامن تھامنے والا ہےاور(رحمَتِ الٰہی سے امید ہے کہ) وہ ضرور نجات پانے والوں میں شامل ہوگا۔
بقدرِ ضرورت دنیا حاصل کرنے والا دنیا دار نہیں:
جو شخص دنیا میں سے صرف بقدرِ ضرورت مقدار حاصل کرتا ہے اسے دنیا دار کہنا ہرگز درست نہیں بلکہ دنیا کی اس قدر مقدار تو خود دین ہے کیونکہ اس قدر دنیا کا حصول دین کے لئے شرط ہے اور شرط مشروط میں داخل ہوتی ہے۔
اس بات کی دلیل یہ ہے کہ حضرت سیِّدُناابراہیمخَلِیْلُاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ایک مرتبہ کوئی حاجت درپیش ہوئی تو آپ ایک دوست کے پاس قرض لینے کے لئےتشریف لے گئےلیکن اس نے قرض نہ دیا،آپعَلَیْہِ السَّلَامغمزدہ واپَس تشریف لے آئے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کی طرف وحی فرمائی:اگر آپ اپنے خلیل(یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّ)سے مانگتے تو وہ آپ کو ضرور دیتا۔حضرت سیِّدُناابراہیمخَلِیْلُاللہعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے عرض کی:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں جانتا تھا کہ تو دنیا کو ناپسند فرماتا ہے،لہٰذا مجھے خوف ہوا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1197صفحات پرمشتمل کتاب بہارِشریعت،حصہ16،جلد3، صفحہ506پرصَدْرُالشَّرِیْعَہ،بَدْرُالطَّرِیْقَہحضرتِ علامہ مولانامفتی محمدامجدعلی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینقل فرماتے ہیں: علاج کرانا ضروری نہیں کہ اگردوانہ کرے اورمرجائے تو گنہگارہو۔اوربھوک پیاس میں کھانے پینے کی چیزدستیاب ہواورنہ کھائے پیے یہاں تک کہ مرجائے توگنہگارہے،کہ یہاں یقیناًمعلوم ہے کہ کھانے پینے سے وہ بات جاتی رہے گی۔