Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
720 - 882
 الْغَنِی کی ماقبل میں بیان کردہ تعریف کے مطابق زہد کے لئے توکُّل کو شرط ٹھہرایا جائے تو پھر مذکورہ شخص زاہدین کے کسی بھی طبقے میں شامل نہیں ہوگا۔ 
	جب ہم کسی شخص کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ وہ زاہدین کے زمرے سے خارج ہے تو اس سے ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ آخرت میں زاہدین کے لئے جن اعلیٰ مقامات کا وعدہ کیا گیا ہے وہ اسے حاصل نہیں ہوں گےورنہ اس شخص نے جن فضول چیزوں کو یا جن اشیاء کی کثرت کو ترک کیا ہے ان کے اعتبار سے اسے زاہد کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
	زہد کے ان تمام بیان کردہ معاملات میں اکیلے شخص کا معاملہ عِیال دار شخص کی نسبت آسان ہوتا ہے اور وہ سہولت کے ساتھ زہد کے تقاضوں پر عمل پیرا ہوسکتا ہے۔
اہلِ خانہ کو زہد پر مجبور نہ کرے:
	حضرت سیدنا ابوسلیمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:آدمی کو چاہئے کہ اپنے گھر والوں کو زہد اختیار کرنے پر مجبور نہ کرے بلکہ انہیں سمجھا بجھا کر زہد اختیار کرنے کی ترغیب دلائے،اگر وہ ایسا کرلیں تو ٹھیک ورنہ انہیں چھوڑ دے اور اپنی ذات کے معاملے میں جو چاہے کرے۔
	اس قو ل کا معنیٰ یہ ہے کہ زہد کے معاملے میں جو شرائط لازم ہیں وہ صرف زاہد کی ذات کے لئے ہیں، ان شرائط کواہْلِ خانہ پر لاز م کرنا زاہد کے لئے ضروری نہیں،لیکن اس بات کاہرگز یہ مطلب نہیں کہ  ان کی ہر خواہش کو پورا کرے اور اِعتدال کی حد سے بھی باہر ہوجائے۔اس مُعامَلے میں سیرتِ مصطفٰے سے راہ نمائی حاصل کرنی چاہئے کہ آپ دروازے پر موجود پردے اوراپنی لخْتِ جگر خاتونِ جنت حضرت سیِّدَتُنا فاطمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے ہاتھوں میں موجود کنگنوں کے سبب گھر میں  داخل نہ ہوئےکیونکہ یہ چیزیں ضَرُوْرِیّات سے نہیں بلکہ زیب وزینت سے تعلق رکھتی ہیں ۔  
خلاصَۂ کلام:
	اس تمام گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ جس قدر عزت و جاہ اور مال کی انسان کو ضرورت ہوتی ہے اس کا حصول ممنوع نہیں، مال وجاہ ضرورت سے زیادہ ہوتو زہرِ قاتل ہے جبکہ ضرورت کی مقدار ہوتو  نفع بخش دوا