دنیاوی خوش بختی اور بدبختی میں متفاوِت ہیں اور اس معنی کے اعتبار سے دنیا اور آخرت میں کوئی فرق نہیں کیونکہ مُلْک(ظاہری دنیا) اور مَلَکُوْت (غیبی دنیا یعنی آخرت) دونوں کی تدبیر فرمانے والی ذات ایک ہی ہے جس کا کوئی شریک نہیں، جس کے اَزَلی اِرادے سے اس کا طریقہ مسلسل یوں ہی چلا آرہا ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی البتہ! یہ بات ہے کہ اگرچہ ہم ہر ایک دَرَجے کو شمار نہیں کرسکتے مگر اَجناس کو شمار کرسکتے ہیں۔تو ہم کہتے ہیں کہ آخرت میں لوگ چار گروہوں میں تقسیم ہوں گے: (۱)…ہلاک ہونے والے (۲)…عذاب وسزا پانے والے (۳)…نجات پانے والے اور (۴)…کامیاب ہونے والے۔
دنیا میں اس کی مثال یہ ہے کہ ایک بادشاہ کسی ملک پر قبضہ کرتا ہے تو بعض لوگوں کو قتل کردیتا ہے ”یہ ہلاک ہونے والے ہیں“ بعض کو کچھ مدت تک سزا دیتا ہے مگر قتل نہیں کرتا ”یہ عذاب وسزا پانے والے ہیں“ بعض کو چھوڑ دیتا ہے ”یہ نجات پانے والے ہیں“ اور بعض کو انعام وخلعت عطا کرتا ہے ”یہ کامیاب ہونے والے ہیں“ پھر اگر بادشاہ انصاف کرنے والا ہو تو مستحق ہونے کے لحاظ سے لوگوں کو تقسیم کرتا ہے۔ قتل صرف اسی کو کرے گا جو بادشاہ کے حق کا منکر ہو اور اَصْل حکومت میں اس کا دشمن ہو اور سزا صرف اسی کو دے گا جو اس کی بادشاہت اور بلند مرتبہ کا معترف ہونے کے باوجود اس کی خدمت میں کوتاہی کرتا ہو اور چھوڑتا اسی کو ہے جو اس کے شاہی رتبے کا اعتراف کرتا ہو اور ایسی کوتاہی بھی نہیں کرتا کہ سزاپائے اور نہ ہی ایسی خدمت کرتا ہے کہ خِلْعَت واِنعام پائے اور بادشاہ خلعت سے اسی کو نوازتا ہے جو اپنی ساری عمر اس کی خدمت ونصرت میں لگا دیتا ہے۔
پھر خدمت کے اعتبار سے کامیاب ہونے والوں کی خلعتوں میں بھی فرق ضروری ہے۔ یوں ہی ہلاک ہونے والوں کو ہلاک کرنے میں بھی فرق ہوتا ہے۔ کسی کوگردن کاٹ کر یکبارگی سزادی جاتی ہے اورکسی کو عبرت ناک سزادی جاتی ہے یوں کہ اعضاء کاٹ کر چھوڑدیا جاتا ہے حتّٰی کہ مرجائے۔ اَلْغَرَض دشمنی میں ان کے دَرَجات کے لحاظ سے ہلاک کرنے میں فرق ہوگا۔ ایسے ہی سزاپانے والوں کو سزادینے میں بھی فرق ہوتا ہے۔ بعض کو سخت اوربعض کو ہلکی نیز کسی کو لمبے عرصے تک اور کسی کو تھوڑے عرصے تک سزا ہوتی ہے اور اس کا مختلف ہونا ہر ایک کی کوتاہی کے لحاظ سے ہے۔ پس بیان کردہ درجات میں سے ہر درجہ اتنے درجات کی