راستے پر چلتا ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت میں مشغول ہوجاتا ہے تواگرچہ وہ کُفّار کے درمیان رہتا ہو خود بخود لوگوں کے دلوں میں اس کی عزت پیدا ہوجاتی ہے جس کے سبب و ہ ان کی طرف سے آنے والی تکالیف سے محفوظ ہوجاتا ہے۔جب کفار کے درمیان رہ کر عبادتِ خداوندی کرنے والے کا یہ معاملہ ہے تو مسلمانوں کے ساتھ رہنے والے کا کیا حال ہوگا۔
جہاں تک ان تَوَہُّمات اور اندازوں کا تعلُّق ہے جو انسان کو اس بات پر اُبھارتے ہیں کہ بغیر کسی کوشش کے حاصل شدہ موجودہ عزت ومنزلت میں اضافہ ہوناچاہئے تو یہ سب توہمات جھوٹے ہیں،نیز طَلَبِ جاہ میں مشغول شخص بعض صورتوں میں دوسروں کے لئے تکلیف کا باعث بھی بنتا ہے،لہٰذا ایسے اندیشوں کا علاج طلَبِ جاہ سے کرنے کے بجائے صبر وتحمل سے کرنا بہتر ہے۔
خلاصَۂ کلام:
لوگوں کے دلوں میں اپنے لئے عزت ومنزلت کی طلب کرنے کی کسی صورت میں اجازت نہیں، اس کی قلیل مقدار کثیر کی طرف لے جانے والی ہے اور اس کا نشہ شراب کے نشے سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے جسے ترک کرنا انتہائی دشوار ہوتاہے،لہٰذا اس سے مطلقاً پرہیز کرنا چاہئے۔
٭…مال:مال کی قلیل مقدار زندگی گزارنے کے لئے ضروری ہے ۔اگرکوئی شخص مزدور پیشہ ہو تو اسے چاہئے کہ ایک دن کی ضرورت کی مقدار کمائی کرنے کے بعد کام کا سلسلہ روک دے ۔زہد کی دولت سے مالا مال بعض بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے بارے میں منقول ہے کہ جب وہ بقدرِضرورت کمالیتےتو اپنے اوزاروں کا تھیلا اٹھاتے اور کام بند کردیتے۔
یہ بات زاہد کے لئے شرط ہے کہ وہ ایک دن کی ضروریات سے زائد کمائی نہ کرے،اگر وہ اس سے تجاوز کرکے ایک سال کی ضروریات سے بھی زائد مقدار میں مال جمع کرتا ہے تو وہ کمزور اور مضبوط ہر قسم کے زاہدین کے زُمرے سے خارج ہے۔اگر کسی کے پاس زمین موجود ہو اور اسےکامل توکُّل کی دولت حاصل نہ ہو تو اس کی پیداوار میں سے ایک سال کی ضروریات کی مقدار جمع کرکے زائد مقدار کو صدقہ کردینے سے وہ زہد سے خارج نہ ہوگا بلکہ کمزور درجے کے زاہدین میں شامل رہے گا،اگر حضرت سیِّدُنا اُوَیس قَرنیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ