Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
718 - 882
چھٹی ضرورت مال وجاہ
٭…جاہ: کے معنیٰ ہیں دلوں کا مالک ہونا یعنی لوگوں کے دلوں میں اپنے لئے جگہ بنانا تاکہ اس کے ذریعے ان سے اپنے کام نکلوائے جاسکیں۔جو شخص اپنے تمام کام خود کرنے پر قادر نہ ہو اور اسےکسی خادم کی ضرورت ہو تو اسے اپنے خادم کے دل میں جگہ بنانے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اگر خادم کے دل میں اس کے لئے عزت ومقام  نہ ہوتو وہ اس کی خدمت نہیں کرے گا۔دلوں میں موجوداس عزت ومقام کانام’’جاہ ‘‘ہے۔ طَلَبِ جاہ کا آغاز اسی طرح ہوتا ہے لیکن انجامِ کار یہ ایک ایسی گھاٹی میں گرادیتی ہے جس کی گہرائی کی کوئی انتہا نہیں،اسے یوں سمجھیں کہ  جو شخص ممنوعہ علاقے کے اردگرد جاتا ہے وہ ایک نہ ایک دن اس کے اندر بھی داخل ہوجاتا ہے۔
حصولِ جاہ کے تین مقاصد:
	انسان کولوگوں کے دلوں میں عزت ومنزلت کی ضرورت تین میں سے کسی ایک مقصد کے تحت پیش آتی ہے:(۱)…کسی نفع کے حصول کے لئے(۲)…نقصان سے بچنے کے لئے(۳)…ظلم سے چھٹکارے کے لئے۔
	اگر کسی شخص کے پاس مال موجود ہو تو اسے نفع حاصل کرنے کے لئےجاہ کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ اُجرت کے عِوَض خدمت کرنے والے کے دل میں اگر اجرت دینے والے کی عزت نہ ہو تو بھی وہ اس کی خدمت کرتا رہتا ہے،جاہ کی ضرورت  اس صورت میں پڑتی ہے کہ خادم بغیر اجرت کے خدمت کرتا ہو۔ نقصان سے بچنے کے لئے جاہ کی ضرورت ایسے شہر میں ہوتی ہے جہاں عدل وانصاف نہ ہویا پھر یہ شخص ایسے پڑوسیوں کے درمیان رہتا ہو جو اس پر ظلم کرتے ہوں اور یہ شخص ان کے شر سے بچنے پر قادر نہ ہو،بچنے کی صور ت صرف یہ ہو کہ اس کے پڑوسیوں کے دل میں یا پھر شہر کے حاکم کے دل میں ا س کے لئے عزت موجود ہو۔مذکورہ مقاصد کے حصول کے لئے کس قدر جاہ کی ضرورت ہوتی ہے اس کا تعین کرنا انتہائی دشوار ہے بِالْخُصُوص جبکہ ان کے ساتھ ساتھ مستقبل کے حوالے سے خوف اور اندیشے بھی موجود ہوں۔
	جاہ کی طلب میں مشغول ہونے والا شخص درحقیقت ہلاکت کے راستے پر گامزن ہوجاتا ہےاس لئے زاہد کو چاہئے کہ وہ لوگو ں کے دلوں میں جگہ بنانے کے لئے بالکل کوشش نہ کرے ۔جب کوئی شخص دین کے