حضرت سیِّدُنا سَہْل بن عبداللہ تُسْتَرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَویکا بھی یہی مقصود ہوگا اور اسی لئے محبوب ربِّ داورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی نکاح فرمائے۔چنانچہ جس شخص کا حال پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےحال کے مشابہ ہو کہ عورتوں کی کثرت ،ان کے معاملات کی اصلاح اور ان کے اخراجات کے سبب وہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد سے غفلت کا شکا رنہ ہوتو صرف انہیں دیکھنے اور صحبت کی لذت سے بچنے کے لئے نکاح کو ترک کرنے کا زہد سے کوئی تعلق نہیں،لیکن انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَاماوراکابراولیائےعظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے علاوہ دیگر لوگوں کے لئے اس مقام کا حُصُول بہت مشکل ہے، اکثر لوگوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ عورتوں کی کثرت انہیں یادِ خداوندی سے غافل کردیتی ہے۔اس لئے ہر شخص کو اپنی حالت پر غور کرنا چاہئے، اگر اصْلِ نکاح اسے یادِالٰہی سے غافل کرتا ہے تو نکاح نہ کرے اور اگر اصْلِ نکاح اس معاملے میں رکاوٹ نہیں بنتا بلکہ عورتوں کی کثرت یا خوبصورتی غفلت کا باعث بنتی ہے تو پھر ایک نکاح پر اِکتفا کرے یا پھر ایسی عورت سے نکاح کرے جو زیادہ خوبصورت نہ ہو اور اس معاملے میں اپنے دل کی نگرانی کرتا رہے۔
حضرت سیِّدُناابوسلیمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:عورتوں کے معاملے میں زہد یہ ہے کہ معمولی خاندان کی یا یتیم عورت کو خوبصورت اور خاندانی عورت پر ترجیح دی جائے۔
مُرِید اپنے دل کو تین چیزوں میں مشغول نہ کرے:
حضرت سیِّدُناجنید بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:میں ابتدائی مرحلے میں مُرید کے لئے اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ وہ اپنے دل کو تین چیزوں میں مشغول نہ کرے ورنہ اس کا حال بدل جائے گا: (۱)…رزق کی طَلَب(۲)…طَلَبِ حدیث(۳)…نکاح۔
صوفی لکھنے پڑھنے میں مشغول نہ ہو:
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے صوفی کے بارے میں فرمایا:میں صوفی کے لئے اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ وہ لکھنے پڑھنے میں مشغول نہ ہو تاکہ اسے یکسوئی حاصل رہے۔
اس تمام تفصیل سے یہ بات ثابت ہوئی کہ نکاح کی لذت کھانے کی لذت کی طرح ہے، لہٰذا جو چیزاللہ عَزَّ وَجَلَّکی یاد سے غفلت کا باعث بنے وہ ان دونوں میں ممنوع ہے۔