Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
716 - 882
 عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں سب سے بڑے زاہدامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم تھے اور آپ کی چار ازواج اور10سے زائد لونڈیاں تھیں۔
کون سی چیز بُری ہے؟
	اس مُعامَلے میں دُرُست بات وہ ہے جو حضرت سیِّدُناابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فرمائی کہ جو بھی چیز تمہیںاللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے غافل کردے وہ بری ہے چاہے وہ بیوی ہو یا مال واولاد۔
نکاح کے حوالے سے زہد کی مختلف صورتیں:
	بعض اَوقات بیوی بھیاللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے غفلت کا سبب بنتی ہے،ایسی صورت میں نکاح کو ترک کرنا اور کنوارہ رہنا زہد میں داخل اورافضل ہے جس کا بیان ’’کتابُ النِّکاح ‘‘میں گزر چکا ہے۔ اگر کسی پر شہوت غالب ہو تو اسے دور کرنے کے لئے نکاح کرنا نہ صرف افضل بلکہ واجب ہے اور ایسی صورت میں نکاح کو ترک کرنے کا زہد سے کوئی تعلُّق نہیں۔اگر کسی شخص کے لئے نکاح کرنا نہ کرنا دونوں برابر ہوں(یوں کہ شہوت کا غلبہ نہ ہو)تو اس صورت میں نکاح کو ترک کرنا کہ دل بیوی کی طرف مائل ہوگااور اس سے محبت ہوگی جس کے باعث وہاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی یاد سے غافل ہوجائے گا تو پھر نکاح کو ترک کرنا زہد میں داخل ہے۔اگر کوئی یہ جانتا ہے کہ بیوی اسےاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی یاد سے غافل تو نہ کرے گی لیکن اسے دیکھنے ،اس کے ساتھ سونے اور صحبت کرنے کی لذت سے بچنے کے لئے نکاح کو ترک کرتا ہے تو اس صورت کا زہد سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ اس کی نسل کی بقا کے لئے اولاد کا ہونا ضروری ہے اور سرکارِ نامدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی امت کی کثرت کا باعث بننا ایک نیک عمل ہے۔جو کام انسانی وُجُود کی بقا کے لئے ضروری ہیں انہیں کرنے کے دوران حاصل ہونے والی لذت نقصان دہ نہیں کیونکہ اصْلِ مقصود اس لذت کا حصول نہیں ہوتا۔ حصولِ لذت کے خوف سے نکاح کو ترک کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص کھانے پینے کی لذت سے بچنے کے لئے کھانا کھانے اور پانی پینے کو ترک کردے۔ایسا  کرنے والے شخص کا زہد سےکوئی تعلق نہیں کیونکہ کھانے پینے کوترک کرناانسانی بدن کی ہلاکت کا باعث ہے،یونہی نکاح کو ترک کرنا نسْلِ انسانی کے منقطع ہونے کا سبب ہے،لہٰذابغیر  کسی اور آفت کےصرف نکاح کی لذت سے بچنے کے لئے اسے ترک کرنا جائز نہیں۔یقینی طور پر