دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک دو تہہ کئے ہوئے کمبل پر آرام فرمایا کرتے تھے۔ایک رات اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے نیا بستر بچھادیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپوری رات کروٹیں بدلتے رہے،جب صبح ہوئی تو ارشاد فرمایا:میرے لئے وہی پرانا کمبل بچھایا کرو اور اس نئے بستر کو مجھ سے دور کردو ، اس نے مجھے ساری رات سونے نہیں دیا۔(1)
گھر میں موجود دیناروں نے سونے نہ دیا:
ايك مرتبہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمكی خدمت میں کہیں سے پانچ یاچھ دینار آئے جو را ت تک گھر میں موجود رہے،ان دیناروں کی گھر میں موجودگی کے سبب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کو سو نہ پائے یہاں تک کہ رات کے آخری حصے میں انہیں گھر سے نکال دیا(یعنی صدقہ کردیا)۔ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ طَیِّبَہ طاہِرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:اس کے بعدآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آرام فرمایا یہاں تک کہ میں نے آپ کے سانسوں کی آواز سنی۔اس موقع پر ارشادفرمایا:اگران دیناروں کے ہوتے ہوئے مجھے موت آجائے تو بارگاہِ الٰہی میں کیا جواب دوں گا؟(2)
حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:میں نے70 کے قریب نیک بندوں کو دیکھا جن کے پاس صرف ایک کپڑا ہوتا تھا ،ان میں سے کوئی بھی زمین پر کپڑا نہیں بچھاتا تھا بلکہ جب سونے کاارادہ ہوتا تویہ حضرات زمین پر لیٹ کر اوپر کپڑا اوڑھ لیتےتھے۔
پانچویں ضرورت نکاح
بعض بزرگانِ دین فرماتے ہیں:نکاح کرنے میں یا اس کی کثرت میں زہد کا کوئی عمل دَخْل نہیں ہے۔
حضرت سیِّدُناسَہْل بن عبداللہ تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکی رائے بھی یہی ہے،آپ فرماتے ہیں:تمام زاہدوں کے سردارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو نکاح کرنا پسند تھاتو پھر اس معاملے میں زہد کا کیاکام؟
حضرت سیِّدُنا سُفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کابھی یہی مَوْقِف ہے،آپ فرماتے ہیں:صحابَۂ کرام
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الطبقات الکبری لابن سعد، ذکر ضجاع رسول اللہ و افتراشہ،۱/ ۳۶۰،بتغیرقلیل
2…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند الصدیقة عائشة،۹/ ۳۰۴،حدیث:۲۴۲۷۷،بتغیر