رضائے مصطفٰے پر ہرچیز قربان:
حضورنبیّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک سفر سے واپسی پر خاتونِ جنت حضرت سیِّدَتُنا فاطمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے گھرتشریف لائے لیکن گھر کے دروازے پر ایک پردہ اور اپنی لخْتِ جگر کے ہاتھوں میں چاندی کے دو کنگن ملاحظہ فرماکر واپس تشریف لے گئے۔حضرت سیِّدُناابورافعرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ خاتونِ جنت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ رورہی تھیں،انہوں نےمصطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمكے لوٹ جانے کی خبردی توحضرت سیِّدُناابورافعرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکرواپسی کاسبب پوچھا،آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:دروازےپرموجودپردےاورچاندی کے کنگنوں کے سبب میں واپس آگیا۔(1)حضرت سیِّدنا ابورافعرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے خاتونِ جنترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکواس بات کی خبر دی توانہوں نے پردہ پھاڑ دیااور کنگن حضرت سیِّدُنا بلالرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاتھوں بارگاہِ رسالت میں بھیج دیئے اور عرض کی:میں یہ کنگن صَدَقہ کرتی ہوں،آپ انہیں جہاں مناسب سمجھیں خرچ فرمادیں۔ غریبوں کے والی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنابلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا:انہیں بیچ کر اہْلِ صفہ پر خرچ کردو۔چنانچہ انہوں نے وہ دونوں کنگن ڈھائی درہم میں بیچ کر اصحابِ صفہ پر صدقہ کردیئے۔ اس کے بعدپیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی لخْتِ جگر کے گھر تشریف لائے اور ارشاد فرمایا:تم پر میرے ماں باپ فدا(2)!تم نے بہت اچھا کیا۔(3)
ایک روایت میں ہے کہ سرکارِ مکَۂ مکرمہ، سردارِ مدینَۂ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے حجرے کے دروازے پر ایک پردہ ملاحظہ فرمایا تو اسے پھاڑدیااورارشادفرمایا:كُلَّمَا رَاَیْتُہٗ ذَكَرْتُ الدُّنْيَا اَرْسِلِیْ بِهٖ اِلٰی اٰلِ فُلَانیعنی میں اسے جب بھی دیکھتا ہوں مجھے دنیا یاد آتی ہے،اسے فلاں کے گھر بھیج دو۔(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابی داود، کتاب الترجل، باب ما جاء فی الانتفاع بالعاج،۴/ ۱۱۸،حدیث:۴۲۱۳،بتغیر
2…خیال رہے کہ میں فدا میرے ماں باپ فدا انتہائی محبت وعظمت ظاہر کرنے کے لئے کہے جاتے ہیں۔(مراٰة المناجیح،۸/ ۴۳۲)
3…سنن النسائی، کتاب الزینة، باب الکراھیة للنساء فی اظہار الحلی والذھب،ص۸۲۰،حدیث:۵۱۵۰،بتغیر
4…سنن النسائی، کتاب الزینة، باب التصاویر،ص۸۴۷،حدیث:۵۳۶۳،بتغیرقلیل