اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:اے عمر!کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ ان کے لئے دنیا اور ہمارے لئے آخرت ہو؟عرض کی:یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں اس بات پر راضی ہوں۔ ارشاد فرمایا: تو پھر ایسا ہی ہے(یعنی ان کے لئے دنیا اور ہمارے لئے آخرت ہے)۔ (1)
ہمارا ایک اورگھر بھی ہے:
ایک شخص حضرت سیِّدُنا ابوذرغِفاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں حاضر ہوا،اس نے گھرمیں کسی قسم کاسازوسامان نہ پایا تو عرض کی:اے ابوذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ!آپ کے گھر میں ضرورت کا سازوسامان نظر نہیں آرہا؟آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:ہمارا ایک گھر اور بھی ہے، ہم اپنا عمدہ سازوسامان وہاں کے لئے بھیج دیتے ہیں۔اس نے پھر عرض کی:جب تک آپ اس گھر میں موجود ہیں کچھ نہ کچھ سامان کا ہوناتوضروری ہے۔ فرمایا:اس گھر کا مالک ہمیں اس میں نہیں رہنے دے گا۔(2)
حمص کے گورنر کا سازوسامان:
حِمْص کے گورنرحضرت سیِّدُناعمیربن سعیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجب امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا:تمہارے پاس دنیوی سازوسامان میں سے کیا کیا ہے؟عرض کی:میرے پاس میری لاٹھی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اور اگر سانپ کا سامنا ہوجائے تو اِسی سے اُسے مارتا ہوں،چمڑے کا ایک تھیلا ہے جس میں اپنا کھانے کا سامان رکھتا ہوں ،ایک عدد پیالہ ہے جس میں کھانا کھاتا ہوں،سراورکپڑے دھونے کے لئے اسی سے مدد لیتا ہوں،ایک برتن ہے جس میں پینے اور وضو کے لئے پانی ساتھ رکھتا ہوں،اس کے علاوہ دنیا کا جو کچھ سازوسامان ہے وہ میرے پاس موجود اس سامان کے تابع ہے۔امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَر فارُوقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ سن کرفرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّتم پر رحم فرمائے،تم نے سچ کہا۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الادب المفرد للبخاری، باب الجلوس علی السریر،ص۳۱۱، حدیث:۱۱۹۷
2…شعب الایمان للبیھقی، باب فی الزھد وقصر الامل،۷/ ۳۷۸،حدیث:۱۰۶۵۱
3…المعجم الکبیر،۱۷،۱۵/ ۵۱، حدیث:۱۰۹،عن عمیربن سعد،