Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
711 - 882
 انہیں دیکھنا ان کی تعمیر کے لئے مددگار ثابت ہوتا ہے۔
اُس پر تعجب ہے جو…!
	حضرت سیِّدُنافضیل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:مجھے اس شخص پر تعجب نہیں جو عمارت بنا کرچھوڑگیابلکہ اس پرتعجب ہے جو ایسی عمارتوں کو دیکھ کرعبرت  حاصل نہیں کرتا۔
	حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو عمارتوں کو بلند اور دین کو پست کریں گے اورعمدہ گھوڑوں  پر سواری کریں گے،یہ لوگ تمہارے قبلے کی طرف نماز پڑھیں گے لیکن ان کی موت اسلام پر نہیں  ہوگی۔
چوتھی ضرورت گھریلو سازوسامان
	اس  معاملے میں بھی زہد کے تین درجات ہیں:
	(۱)…سب سے اعلیٰ مرتبہ اس شخص کا ہے جو حضرت سیِّدُناعیسٰیرُوْحُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی حالت کو اختیار کرے۔آپ  اپنے ساتھ صرف ایک کنگھی اورپیالہ رکھا کرتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے ایک شخص کو ملاحظہ فرمایا کہ وہ اپنی انگلیوں سے داڑھی میں کنگھی کررہا ہے تو آپ نے کنگھی بھی پھینک دی۔ ایک شخص کو دیکھاکہ اپنی ہتھیلیوں کے ذریعے نہر سے پانی پی رہا ہے تو پیالہ بھی پھینک دیا۔
	ہر قسم کے سامان کا یہی حکم ہے کیونکہ اَصْلِ مقصود اس کے نفع کا حصول ہوتا ہے نہ کہ بذاتِ خود وہ چیز،اگر اس چیز کے بغیر بھی کام چل سکتا ہو تو وہ اپنے مالک کے لئے دنیا وآخرت میں وبال ہے۔ ایسا سامان جس کے بغیر چارۂ کار نہ ہو اس میں بھی  کم سے کم درجے پر اِکتفا کرنا چاہئےمثلاً:جن کاموں کے لئے مٹی کے برتن سے کام چل سکتا ہو ان میں اسی پر اکتفا کیاجائے اور اس بات کی پروا نہ کی جائے کہ برتن کا کوئی کنارہ ٹوٹا ہوا ہے کیونکہ اس سے بھی مقصود حاصل ہوجاتا ہے۔
	(۲)…درمیانہ درجہ یہ ہے کہ گھریلو ضروریات کے مطابق صحیح سلامت سامان موجود ہو لیکن اس بات کا خیال رکھاجائے  کہ اگر ایک چیز کئی مَقاصِد کے لئے استعمال ہوسکتی ہو تو ان کے لئے الگ الگ سامان نہ ہو مثلاً:ایک پیالے سے کھانا کھانے،پانی پینے اور چھوٹی موٹی چیزیں رکھنے کا کام لیا جاسکتا ہے۔بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ