اینٹوں سے بنا ہوا دیکھ رہا ہوں۔اسے کھجور کی شاخوں سے بنانے والے گارے مٹی سے بنانے والوں سے جبکہ گارے مٹی سے بنانے والے اینٹوں سے بنانے والوں سے بہتر ہیں۔
مضبوط مکان تعمیر نہ کرنے کا سبب:
بعض بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنچونکہ مضبوط مکان تعمیرنہیں کرتے تھے اس لئے انہیں زندگی میں کئی مرتبہ اس کی مرمت کرنی پڑتی تھی۔مضبوط مکان تعمیر نہ کرنےکا سبب یہ تھا کہ یہ حضرات نہ توتعمیرات کے معاملے میں دل چسپی رکھتے تھے اور نہ ہی طویل امیدوں کا شکار تھے۔
اَسلاف کے گھروں کی چھت کی اُونچائی:
بعض اَسلاف کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامجب سفرِ حج یاجہاد کے لئے روانہ ہونے لگتے تو اپنے مکان کو اکھاڑ دیتے یا پھر اپنے پڑوسیوں کو اس کا مالک بنادیتے،پھر جب سفر سے واپسی ہوتی تو دوبارہ مکان بناتے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے گھر گھانس پھونس اور کھالوں سے بنے ہوتے تھے۔آج بھی(اس سےحضرت سیِّدُناامام غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیکازمانہ مراد ہے)یمن میں اہْلِ عرب اسی طرح کے گھر بناتے ہیں۔بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے گھروں میں چھت کی اونچائی انسانی قد سے کچھ زیادہ ہوتی تھی۔
حضرت سیِّدُناحسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:میں جب صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے گھروں میں داخل ہوتا تو اپنے ہاتھ سے چھت کو چھولیتا تھا۔
اے سب سے بڑے فاسق!
حضرت سیِّدُنا عَمْرو بن دِینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں:جب کوئی شخص چھ گز سے زیادہ اونچی عمارت تعمیر کرتا ہے تو ایک فِرِشتہ اس سے کہتا ہے:اے سب سے بڑے فاسق!اور کتنا اونچا کرے گا؟
بلندوبالا اور مضبوط عمارات تعمیرکرنے کا ایک سبب:
حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے بلندوبالااورمضبوط عمارات کی طرف دیکھنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا:اگر لوگ ایسی عمارتوں کودیکھنا ترک کردیں توپھریہ لوگ ایسی عمارات نہ بنائیں،لوگوں کا