جو”لوح محفوظ“ میں لکھی ہوئی ہیں اور وہ فِرِشتہ سونے والے کو لوحِ محفوظ کی بات مثال دے کر سمجھاتا ہے کیونکہ سویا ہوا شخص مثال ہی برداشت کرسکتا ہے۔ پس اس کی مثال سچی ہوتی ہے اور اس کا معنی صحیح ہوتا ہے۔
چنانچہ مُرسَلِین عِظام عَلَیْہِمُ السَّلَام جس دنیا میں لوگوں سے کلام کرتے ہیں وہ آخرت کے لحاظ سے ایک طرح کی نیند ہے۔ پس وہ معانی کو ان کے ذہنوں تک مثالوں کے ذریعے پہنچاتے ہیں۔ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حکمت اور اپنے بندوں پر اس کی مہربانی ہے نیز بندے جو بات بغیر مثال کے سمجھنے سے قاصر تھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کا سمجھنا آسان کردیا۔ فرمانِ مصطفٰے:”یُؤْتٰی بِالۡمَوۡتِ یَوۡمَ الۡقِیَامَةِ فِی صُوۡرَةِ کَبۡشٍ اَمۡلَحَ فَیُذۡ بَحُ یعنی روزِ محشر موت کو ایک سیاہ وسفید مینڈھے کی صورت میں لاکر ذبح کردیا جائے گا“ یہ تو ایک مثال ہے جو اس لئے ارشاد فرمائی گئی تاکہ ذہنوں میں یہ بات بٹھادی جائے کہ روزِ محشر کے بعد کسی کو موت نہیں آئے گی۔
دل بنائے ہی ایسے گئے ہیں کہ مثالوں سے متاثر ہوتے ہیں اور انہی کے واسطے سے دلوں میں معانی قرار پکڑتے ہیں۔ اسی لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّنےقرآن پاک میں اپنی قدرت کی انتہا کو یوں تعبیر فرمایا:
کُنْ فَیَکُوۡنُ ﴿۸۲﴾ (پ۲۳، یٰس:۸۲)
ترجمۂ کنز الایمان:ہوجا وہ فوراً ہوجاتی ہے۔
اور تیزی کے ساتھ دل کے بدل دینے کوحضورسیِّدِعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یوں تعبیر فرمایا: قَلْبُ الْمُؤْمِنِ بَیْنَ اُصْبُعَیْنِ مِنْ اَصَابِعِ الرَّحْمٰن یعنی بندۂ مومن کا دل رَحمٰنعَزَّ وَجَلَّ کی دو انگلیوں کے درمیان (یعنی قبضہ میں) ہے۔(1)
ہم (پہلی جلد میں)”عقائد کے بیان“ میں اس کی حکمت کی طرف اشارہ کرچکے ہیں اور اب ہم اس باب کےاصل مقصد کی طرف لوٹتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ نیکیوں اور برائیوں کے اعتبار سے دَرَجوں اور ٹھکانوں کی تقسیم کی پہچان مثالیں دئیے بغیر نہیں کروائی جاسکتی ،لہٰذا ہم جو مثالیں دیں گے تمہیں اس کا معنیٰ سمجھنا ہے نہ کہ ظاہِری صورت۔
نیکوکاروں اور گنہگاروں کے دَرَجات:
آخرت میں لوگوں کی کئی اقسام ہوں گی۔ سعادت اور شقاوت (یعنی خوش بختی اور بدبختی) کے لحاظ سے جنتی درجوں اور جہنمی ٹھکانوں میں ایسا تفاوت وفرق ہے جس کی کوئی حدبندی نہیں کی جاسکتی جیساکہ لوگ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم، کتاب القدر، باب تعریف اللہ تعالٰی القلوب کیف شاء،ص۱۴۲۷،حدیث : ۲۶۵۴، بتغیر قلیل۔