Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
709 - 882
ہرتعمیروبال ہے:
	حضورپُرنُور،شافع یومُ النُّشُورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:كُلُّ بِنَآءٍ وَّبَالٌ عَلٰى صَاحِبِهٖ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اِلَّا مَا اَكَنَّ مِنْ حَرٍّوَّ بَرْدٍیعنی ہر تعمیر روزِ قیامت اپنے بنانے والے کے لئے وبال ہے  سوائے اس کے جو سردی گرمی سے بچنے کے لئے ہو۔(1)
	ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں اپنے گھر کے چھوٹاہونے کی شکایت کی تو حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:اِتَّسِعْ فِی  السَّمَآءِیعنی آسمان میں وسعت کو اختیار کرو۔(2)
	مراد یہ ہے کہ جنت میں وسیع وعریض مکان کے لئے کوشش کرو۔
چونےاوراینٹوں سے بنائی گئی پہلی عمارت:
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فارُوقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ملْکِ شام کی طرف جاتے ہوئے راستے میں ایک عالی شان اور بلند وبالاعمارت دیکھی جسے چونے اور اینٹوں سے تعمیر کیا گیا تھا۔اسے دیکھ کر آپ نے تکبیر کہی اورفرمایا:میرا یہ گمان نہیں تھا کہ اس امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ایسی عمارت تعمیر کریں گے جیسی ہامان نے فرعون کے لئے کی تھی۔امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی مراد فرعون کا یہ قول ہے:
فَاَوْقِدْ لِیۡ یٰہَامٰنُ عَلَی الطِّیۡنِ فَاجْعَلۡ لِّیۡ صَرْحًا (پ۲۰،القصص:۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان:تو اے ہامان میرے لئے گارا پکا کر ایک محل بنا۔
	منقول ہے کہ فرعون وہ پہلا شخص ہے جس کے لئے چونے اور اینٹوں سے عمارت تعمیر کی گئی اور سب سے پہلے یہ کام کروانے والا(فرعون کا وزیر)ہامان ہے،پھر دیگر سرکش لوگوں نے ان دونوں کی پیروی کی اور یہی وہ زینت وآرائش ہے جس کی ممانعت کی گئی ہے۔
	ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کسی شہرکی جامع مسجد کو دیکھ کرارشادفرمایا:میں نے اس مسجد کو پہلے کھجور کی شاخوں سے بنا ہو ادیکھا تھا،پھر چند سال بعد دیکھا تو یہ گارے مٹی سے تعمیر شدہ تھی اور اب اسےپکی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن ابی داود، کتاب الادب، باب ما جاء فی البناء،۴/ ۴۶۰،حدیث:۵۲۳۷،بتغیرقلیل
2…مراسیل ابی داود ملحق سنن ابی داود، باب ما جاء فی البناء، ص۱۹