Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
708 - 882
 سے بھی جلد آنے والی ہے۔(1)
	منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا نوحنَجِیُّ اللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ایک سادہ سی بانس کی جھونپڑی میں رہائش اختیار فرمائی۔ عرض کی گئی:بہتر تھا کہ آپ کوئی عمدہ مکان تعمیر فرمالیتے۔ارشاد فرمایا:جو مرجائے گا(یعنی جسے موت کا یقین ہے)اس کے لئے یہ بھی بہت ہے۔(2)
	حضرت سیِّدُنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: ہم حضرت سیِّدُنا صفوان بن مُحْرِز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں ان کی بانس کی جھونپڑی میں حاضر ہوئے جو جھکی ہوئی تھی ۔ان کی خدمت میں عرض کی گئی:کتنا اچھا ہوتا اگر آپ اس کی مرمت فرمالیتے۔انہوں نے فرمایا:کتنے ہی لوگ مرگئے لیکن یہ اپنی جگہ پر قائم ہے۔
ضرورت سے زائد تعمیرات کی سزا:
	مکی مدنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:مَنْ بَنٰى فَوْقَ مَا يَكْفِيْهِ كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اَنْ يَّحْمِلَہٗیعنی جو شخص ضرورت سے زیادہ عمارت تعمیر کرے گا  روزِ قیامت اسے اس عمارت کو اٹھانے پر مجبور کیا جائے گا۔(3)
	ایک روایت ہے:كُلُّ نَفَقَةٍ لِّلْعَبْدِيُوْجَرُعَلَيْهَا اِلَّا مَا اَنْفَقَهٗ فِی الْمَآءِ وَالطِّيْنیعنی بندے کو اس کے ہر خرچ پر اجر دیا جائے گا سوائے اس کے جوپانی اور مٹی (یعنی غیر ضروری تعمیرات)میں خرچ کرے۔(4)
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشادفرماتاہے:
تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیۡنَ لَا یُرِیۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا ؕ (پ۲۰،القصص:۸۳)
ترجمۂ کنز الایمان:یہ آخرت کا گھر ہم ان کے لئے کرتے ہیں جوزمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد۔
	ایک قول کے مطابق اس آیتِ مقدسہ میں زمین میں بلندی  سے مرادحکومت وریاست کی طلب اور تعمیرات میں باہم مقابلہ بازی کرنا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابن ماجہ،کتاب الزھد،باب فی البناء والخراب،۴/ ۴۵۰،حدیث:۴۱۶۰ 
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب قصر الامل،۳/ ۳۵۷، حدیث:۲۵۳
3…المعجم الکبیر،۱۰/ ۱۵۱،حدیث:۱۰۲۸۷
4…بخاری، کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت،۴/ ۱۳،حدیث:۵۶۷۲،دون’’الماء‘‘