Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
707 - 882
 عَنْہکواس کمرے کے گرانے کا حکم دیا جسے انہوں نے بلند کیا تھا۔ (1)
رضائے مصطفٰے کے طلب گار:
	نورکے پیکر،تمام نبیوں کے سَروَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاگزرایک بلندقُبے کے پاس سے ہوا۔ اِستفسار فرمایا:یہ کس کا ہے؟لوگوں نے ایک شخص کا نام بتا یا۔جب وہ صاحِب بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے اِعراض فرمایا اور اس طرح متوجہ نہ ہوئے جیسے پہلے ہوتے تھے۔ ان صاحِب نے صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سےاس بے توجہی کا سبب پوچھا،جب خبر دی گئی تو انہوں نے جاکر اس قُبے کو گرادیا۔اس کے بعدجب رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دوبارہ اس مقام سے گزرے اورقبہ نہ دیکھا تو اس کے بارے میں دریافت فرمایا ،جب خبر دی گئی تو آپ نے ان صاحب کے لئے دعا فرمائی۔(2)
	حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:محبوب ربِّ داورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وصالِ ظاہری فرمانے تک نہ تو اینٹ پر اینٹ رکھی  اور نہ ہی  بانس پر بانس رکھا (یعنی کوئی عمارت تعمیر نہ فرمائی)۔(3)
ناراضِیٔ الٰہی کی علامت:
	حضورنبیّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:اِذَا اَرَادَاللہ بِعَبْدٍ شَرًّا اَهْلَكَ مَالَهٗ فِی الْمَآءِ وَالطِّيْنیعنی جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّکسی بندے سے ناپسندیدگی کا ارادہ فرماتا ہےتو اس کے مال کو پانی اور مٹی (یعنی تعمیرات)میں ہلاک فرمادیتا ہے۔(4)
موت آنے ہی والی ہے:
	حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عَمْرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں:ہم اپنی بانس سے بنی ہوئی جھونپڑی کی مرمت کررہے تھے کہ پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وہاں سے گزر ہو ا۔آپ نے استفسارفرمایا:یہ کیا ہے؟ہم  نے عرض کی:ہماری جھونپڑی ہے جو کمزور ہوگئی ہے۔ارشادفرمایا:موت اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب قصر الامل،۳/ ۳۶۳،حدیث:۲۸۱
2…سنن ابی داود، کتاب الادب، باب ما جاء فی البناء،۴/ ۴۶۰، حدیث:۵۲۳۷،بتغیر
3…حلیة الاولیاء،الحسن البصری،۲/ ۱۷۹،حدیث:۱۸۳۴
4…المعجم الاوسط،۶/ ۴۵۱،حدیث:۹۳۶۹،’’الماء‘‘بدلہ’’لبن‘‘