اونچی ہو تو ایسا شخص مکان کے معاملے میں زہد کےکم سے کم درجے سے بھی خارج ہے۔
مکان کی تعمیر جس چیز سے ہوئی مثلاً:چونا،بانس،گارا یا اینٹیں اس کے اعتبار سے ،تنگی یا وسعت کے لحاظ سے نیز مکان اپنی ملک ہے،کرائے پر ہے یا عاریۃً لیا ہوا ہے ان تمام اعتبارات سے مکان کی مختلف اقسام ہوسکتی ہیں اور ان تمام صورتوں میں زہد کے مختلف اعتبارات ہیں۔
خلاصَۂ کلام:
جس چیز کو ضرورت کی وجہ سے طلب کیا جائے اس میں ضرورت کی حد سے تجاوُز نہیں کرنا چاہئے۔ بقدرِ ضرورت دنیا کا حصول دینی معاملات کے لئے آلہ اور وسیلہ ہے جبکہ مقدارِ ضرورت سے تجاوز دین کے مُنافِی ہے۔مکان کا مقصدیہ ہوتا ہےکہ بارش،سردی گرمی،لوگوں کی نظروں اور اذیت سے حفاظت ہوسکے اوراس کا کم سے کم درجہ بیان ہوچکا ،جو اس سے زیادہ ہو وہ فضول ہے اورتمام فضولیات دنیا میں داخل ہیں، فضول کو طلَب کرنے والا اور اس کے لئےکوشش کرنے والا زہد سے انتہائی دور ہے۔
’’تَدْرِیْز‘‘اور’’تَشْیِیْد‘‘ کی وضاحت:
منقول ہےکہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعد لمبی امیدوں کے معاملے میں جو چیز سب سے پہلے ظاہر ہوئی وہ ’’تَدْرِیْز‘‘اور’’تَشْیِیْد‘‘ہے۔(1)
’’تَدْرِیْز‘‘سے مرادکپڑوں کی عمدہ اور باریک سلائی ہے، پہلے لمبے لمبے ٹانکوں سے کپڑے سیئے جاتے تھے۔’’تَشْیِیْد‘‘سے مراد چونے اوراینٹوں سےمکان بنانا ہے جبکہ پہلےکھجور کی شاخوں سے مکان بنائے جاتے تھے۔
ایک روایت میں ہے:يَا تِیْ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُّوْشُوْنَ ثِيَابَهُمْ كَمَا تُوْشَى الْبُرُوْدُ الْيَمَانِيَةُیعنی لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ وہ اپنے کپڑوں کو اس طرح مزین کریں گے جیسے یمنی چادروں کو مزین کیا جاتا ہے۔(2)
حضورنبیّ پاک،صاحِبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے چچاحضرت سیِّدُناعباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون،شرح مقامات الیقین،۱/ ۴۳۳
2…قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون،شرح مقامات الیقین ،۱/ ۴۳۳،’’ثیابھم‘‘ بدلہ’’بنیانھم‘‘