غلام اور عمدہ لباس:
حضرت سیِّدُناسلمان فارسیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں عرض کی گئی:آپ عمدہ لباس کیوں نہیں پہنتے؟فرمایا:بھلا غلام کو عمدہ لباس پہننے کی کیا ضرورت ہے البتہ جب یہ دوزخ کی آگ سے آزادی پالے تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! پھر اسے ایسا لباس حاصل ہوگا جو کبھی بوسیدہ نہ ہوگا۔
حضرت سیِّدُنا عُمَر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکے بارے میں منقول ہے کہ آپ کے پاس بالوں سے بنا ایک جبہ اور ایک چادر تھی جنہیں پہن کر آپ رات کو عبادت فرماتے تھے۔
حضرت سیِّدُنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے حضرت سیِّدُنافَرقَدبن یعقوب سَبَخِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے فرمایا:یہ گمان نہ کیجئے گاکہ آپ کو اپنے اُونی کمبل کے سبب لوگوں پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اکثر جہنمی نفاق کے طور پر کمبل اوڑھنے والے ہوں گے۔
حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن معینعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن فرماتے ہیں:میں نے حضرت سیِّدُناابومُعاوِیہ یمان الاسود عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَدکو دیکھا کہ آپ کچرے کے ڈھیر سے کپڑوں کے پرانے ٹکڑے اٹھاتے اور انہیں دھوکر سینے کے بعد پہنتے لیتے ۔میں نے ان سے عرض کی:آپ اس سے بہتر لباس بھی پہن سکتے ہیں۔فرمایا:دنیا میں پہنچے والی تکلیفوں میں ہمارا کیا نقصان ہے جبکہاللہ عَزَّ وَجَلَّجنت میں اس کی تلافی فرمادے گا؟اس بات کو بیان کرتے ہوئےحضرت سیِّدُنا یحییٰ بن معینعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن پر رقت طاری ہوگئی اور آ پ رونے لگے۔
تیسری ضرورت مکان
مکان کے معاملے میں بھی زہد کے تین دَرَجات ہیں:(۱)…اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ اپنے لئے کوئی مخصوص جگہ طلب نہ کی جائے بلکہ مساجد کےگوشوں پر قناعت کرلی جائے جیسا کہ اصحابِ صُفّہعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا معاملہ تھا۔ (۲)…اوسط درجہ یہ ہے کہ کھجور کی شاخوں یا پھر بانس وغیر ہ سے بنی ہوئی جھونپڑی پر گزارہ کرلیا جائے۔ (۳)… سب سے ادنیٰ دَرَجہ یہ ہے کہ خرید کر یا کرائے پراینٹ اور مٹی سےبنا ہوا کوئی کمرہ حاصل کیا جائے۔اگر یہ کمرہ ضرورت سے زیادہ نہ ہو اور نہ ہی اس میں زینت وآرائش کو اختیار کیاگیا ہوتو پھر کمرے کا اختیار کرنا اسے زہد کے آخری درجے سے خارج نہ کرے گالیکن اگرکسی کامکان پختہ،چونا کیا ہوااوروسیع ہونیز اس کی چھت چھ گزسے