بروزِقیامت نظررحمت سے محروم شخص:
ایک روایت میں ہے:مومن کا تہہ بندآدھی پنڈلی تک ہونا چاہئے،آدھی پنڈلی سے لے کر ٹخنوں تک کوئی حرج نہیں اور جو اس سے نیچے ہو وہ آگ میں ہوگا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّبروزِقیامت اس شخص کی طرف نظَرِ رحمت نہیں فرمائے گا جو تکبُّر کے طور پر اپنا تہہ بند گھسیٹتا ہے۔ (1)
حضرت سیِّدُناابو سلیمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیسے مروی ہےکہ حبیْبِ پَروَرْدَگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:لَا يَلْبَسُ الشَّعْرَ مِنْ اُمَّتِىْ اِلَّا مُرَآءٌ اَوْ اَحْمَقٌ یعنی میری امت میں بالوں کا لباس دکھاوا کرنے والے اور کم عقل لوگ ہی پہنیں گے۔
حضرت سیِّدُنا ابوعَمْرواَوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:اُون کالباس پہننا سفر میں سنت اورسفر کے علاوہ بدعت ہے۔(2)
حضرت سیِّدُنا محمد بن واسعرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاُونی جبہ پہنے ہوئے حضرت سیِّدُنا قتیبہ بن مسلم باہلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے کہا:اے ابو یحییٰ!آپ کو اُونی جبہ پہننے کی کیا ضرورت ہے؟ حضرت سیِّدُنا محمد بن واسعرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خاموش رہے تو انہوں نے کہا:میں آپ سے بات کررہا ہوں، آپ ہیں کہ جواب نہیں دے رہے۔اس پرحضرت سیِّدُنا محمد بن واسعرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:اگر میں یہ کہوں کہ میں نے دنیا سے بے رغبتی کے طور پر یہ اُونی جبہ پہنا ہے تو اس میں تز کیَۂ نفس ہے اور اگر کہوں کہ غربت کے باعث پہنا ہے تو اس میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی شکایت ہے ۔
حضرت سیِّدُناابوسلیمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جب حضرت سیِّدُناابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکواپنا خلیل بنایا تو ان کی طر ف وحی فرمائی کہ آپ زمین سے بھی اپنا سَتْر چھپائیں۔چنانچہ آپ عَلَیْہِ السَّلَامپاجامے کے علاوہ باقی ہر چیز ایک ایک رکھتے تھے جبکہ آپ کے پاس پاجامے دو تھے ، جب ایک کو دھوتے تو دوسرا زیْبِ تن فرماتے اور یوں آپ کا سترمُبارَک ہمیشہ پوشیدہ رہتا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الموطا للامام مالک بن انس، کتاب اللباس، باب ما جاء فی اسبال الرجل ثوبہ،۲/ ۴۱۱،حدیث:۱۷۴۵
2… تذکرة الحفاظ للذھبی، الرقم۱۷۷الاوزاعی شیخ الاسلام ابو عمرو عبد الرحمن بن عمروبن محمد،۱/ ۱۳۶