حضرت سیِّدُنا رافع بن خُدَیْجرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بِشر بن مروان کو دیکھا کہ وہ کوفہ میں منبر پر بیٹھا خطبہ دے رہا ہے اور اس نے باریک لباس پہن رکھا ہے۔یہ دیکھ کرآپ نے فرمایا:اپنے امیر کو دیکھو کہ وہ لوگوں کو وعظ ونصیحت کررہا ہے لیکن اس نے خود فاسِقَوں کا لباس پہن رکھا ہے۔
عُمْدہ لباس اور زُہْد:
حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عامر بن ربیعہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہعمده لباس ميں ملبوس حضرت سیِّدُنا ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں حاضر ہوئے اور زہد کے بارے میں گفتگو کرنے لگے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپنی ہتھیلی منہ پر رکھ کربطورِمذاق آوازیں نکالنے لگے۔حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عامر بن ربیعہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاس بات پر ناراض ہوکرامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں حاضر ہوئے اور شکایت کی۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا:غَلَطی تمہاری اپنی ہے کہ تم ایسا لباس پہن کر ان کے سامنے زہد کے بارے میں بات کررہے تھے۔
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہدایت دینے والےاَئِمَّہ سے اس بات کا عہد لیا ہے کہ وہ لوگوں کے احوال میں سے سب سے ادنیٰ حالت کو اختیار فرمائیں تاکہ مال دار لوگ ان کی اقتدا کریں او رفقر کی وجہ سے فقرا کو حقیر نہ سمجھا جائے۔
مولیٰ مشکل کشا رَضِیَ اللہُ عَنْہکی عاجزی:
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکھردرا لبا س زیْبِ تن فرمایا کرتے تھے۔کسی نے اس بارے میں عرض کی تو آپ نے فرمایا:ایسا لباس تواضُع کے زیادہ قریب ہے اور اس لائق ہے کہ مسلمان اس کی پیروی کریں۔
سرکارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےعیش پسندی اورآرام طَلَبی سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اِنَّ لِلّٰہِ تَعَالٰی عِبَادًا لَّيْسُوْا بِالْمُتَـنَعِّمِيْنیعنی بے شکاللہ عَزَّ وَجَلَّکےکچھ بندے ایسے ہیں جو عیش پسند نہیں ہیں۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث معاذ بن جبل،۸/ ۲۶۱،حدیث:۲۲۱۷۹